پانی پاکستان کی ریڈ لائن ہے، بھارت نے روکا تو جنگی اقدام تصور ہوگا: وزیراعظم

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پانی پاکستان کی ریڈ لائن ہے، بھارت کی جانب سے پانی روکنے کی کسی بھی کوشش کو جنگی اقدام تصور کیا جائے گا، پاکستان پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اپنے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور مالدیپ کے درمیان دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون اور علاقائی و عالمی امور پر بھی گفتگو کی۔اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف اور مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو کے درمیان وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں ملاقات اور وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے، جن میں مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان 20 مفاہمتی یادداشتوں کا تبادلہ بھی کیا گیا۔مالدیپ کے صدر کی وزیراعظم ہاؤس آمد پر شہباز شریف نے ان کا استقبال کیا۔ معزز مہمان کے اعزاز میں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا، جس کا صدر معیزو نے معائنہ کیا۔ انہوں نے وزیراعظم ہاؤس میں یادگاری پودا بھی لگایا۔مذاکرات کے دوران دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور مالدیپ کے دیرینہ برادرانہ تعلقات کا جائزہ لیا اور انہیں مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے مالدیپ کی قومی ترقی کی ترجیحات میں تعاون جاری رکھنے کی یقین دہانی بھی کرائی۔دوطرفہ تجارت 20 کروڑ ڈالر تک بڑھانے کا ہدفمذاکرات میں اقتصادی تعاون کو خصوصی اہمیت دی گئی۔ دونوں ممالک نے تجارت، سرمایہ کاری، سیاحت، غذائی تحفظ، ادویات اور نجی شعبے کے درمیان شراکت داری کو فروغ دینے پر اتفاق کیا۔دونوں رہنماؤں نے آئندہ دو سال کے دوران دوطرفہ تجارت موجودہ ایک کروڑ 34 لاکھ ڈالر سے بڑھا کر 20 کروڑ ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا۔ اس مقصد کے لیے فضائی اور بحری رابطوں کو بہتر بنانے اور مشترکہ اقتصادی کمیشن کا اجلاس جلد منعقد کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔وزیراعظم شہباز شریف نے مالدیپ کو ضروری غذائی اشیا اور ادویات فراہم کرنے کے لیے پاکستان کی آمادگی کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں دونوں حکومتوں کے درمیان براہِ راست انتظامات کیے جاسکتے ہیں۔مالدیپ کے طلبہ کے لیے مزید اسکالرشپس کا اعلانوزیراعظم نے مالدیپ کے طلبہ کے لیے ہر سال مزید 20 انڈرگریجویٹ اسکالرشپس دینے کا اعلان کیا۔ انہوں نے صحت کے شعبے میں تعاون، پیشہ ورانہ تربیت اور متعلقہ اداروں کی استعداد بڑھانے کے لیے بھی پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔دونوں ممالک نے تعلیم، صحت، تکنیکی تربیت اور دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا تاکہ عوامی سطح پر روابط کو فروغ دیا جاسکے۔مالدیپ کے شجرکاری پروگرام میں پاکستان کی معاونتمالدیپ کے صدر کے پانچ ملین درخت لگانے کے اقدام کے تحت وزیراعظم شہباز شریف نے اعلان کیا کہ پاکستان آئندہ 12 ماہ کے دوران ایک لاکھ زیتون کے پودے اور مختلف اقسام کے ایک لاکھ بیج فراہم کرے گا۔ ان کی فراہمی متعلقہ پودوں کی موسمی دستیابی کو مدنظر رکھتے ہوئے کی جائے گی۔پاکستان اپنے ماہرین بھی مالدیپ بھیجے گا، جو وہاں پودوں کی نرسریاں قائم کرنے میں معاونت کریں گے۔ اس تعاون کے ذریعے تین سال میں مجموعی طور پر 10 لاکھ پودے تیار کرنے میں مدد فراہم کی جائے گی۔فلسطین اور کشمیر سمیت علاقائی امور پر تبادلہ خیالمذاکرات میں علاقائی اور عالمی صورتحال پر بھی گفتگو ہوئی۔ دونوں رہنماؤں نے امن، مذاکرات، خودمختاری کے احترام اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کے عزم کا اعادہ کیا۔وزیراعظم شہباز شریف نے فلسطین کے معاملے پر مالدیپ کے اصولی مؤقف کو سراہا۔ انہوں نے جموں و کشمیر تنازع، سندھ طاس معاہدے اور علاقائی سلامتی کی صورتحال سے متعلق پاکستان کا مؤقف بھی پیش کیا۔20 مفاہمتی یادداشتوں کا تبادلہپاکستان اور مالدیپ کے درمیان 20 مفاہمتی یادداشتوں میں صحت، تعلیم، تکنیکی تربیت، سیاحت، شہری ہوا بازی، زراعت، ماہی گیری، دفاع، بحری سلامتی، قانون نافذ کرنے والے اداروں، سول سروس، سماجی تحفظ، ثقافت اور نوجوانوں سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کا احاطہ کیا گیا۔مشترکہ میڈیا گفتگو میں دونوں رہنماؤں نے مذاکرات کے نتائج پر اطمینان کا اظہار کیا اور معاہدوں پر بروقت عمل درآمد کی اہمیت پر زور دیا تاکہ دونوں ممالک کے عوام ان سے عملی فوائد حاصل کرسکیں۔مالدیپ کے صدر کو اعزازی پی ایچ ڈی کی ڈگریدورے کے دوران انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کی جانب سے مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو کو سیاست اور بین الاقوامی تعلقات کے شعبے میں اعزازی پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی دی گئی۔ یہ ڈگری ان کی قیادت، عوامی خدمات اور مالدیپ کی ترقی کے لیے کوششوں کے اعتراف میں عطا کی گئی۔وزیراعظم شہباز شریف نے مالدیپ کے صدر اور ان کے وفد کے اعزاز میں ظہرانہ بھی دیا۔واضح رہے کہ مالدیپ کے صدر کا یہ سرکاری دورہ گزشتہ 11 سال میں کسی مالدیپ کے صدر کا پاکستان کا پہلا دورہ ہے۔ یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کے 60 سال مکمل ہونے کے موقع پر ہورہا ہے، جسے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کی اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے