بل گیٹس کی بیٹی پر ’کوکی اسٹفنگ‘ کے الزامات
مائیکروسافٹ کے بانی اور امریکی ارب پتی بل گیٹس کی 23 سالہ بیٹی فیبی گیٹس اپنی ڈیجیٹل شاپنگ اسٹارٹ اپ کمپنی ’فیا‘ سے متعلق ’کوکی اسٹفنگ‘ کے الزامات کے باعث تنازع کا شکار ہوگئی ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق فیبی گیٹس نے اسٹینفورڈ یونیورسٹی کی سابق ساتھی صوفیا کیانی کے ساتھ مل کر ’فیا‘ قائم کی تھی۔ کمپنی صارفین کو آن لائن خریداری کے دوران مختلف مصنوعات اور ڈسکاؤنٹ آفرز تلاش کرنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔
کوکی اسٹفنگ‘ کیا ہے؟
رپورٹس کے مطابق ’فیا‘ پر الزام ہے کہ اس کے بعض فیچرز صارفین کے براؤزر میں ایسی کوکیز شامل کرتے تھے جن کے ذریعے کمپنی ان آن لائن خریداریوں کا کریڈٹ اور کمیشن حاصل کرسکتی تھی جن میں اس نے حقیقتاً صارف کو متعلقہ اسٹور تک نہیں پہنچایا تھا۔
اس طریقہ کار کو ’کوکی اسٹفنگ‘ کہا جاتا ہے۔ بعض حالات میں اس عمل سے متعلق فراڈ کے الزامات سنگین قانونی نتائج کا باعث بن سکتے ہیں۔ امریکی قانونی ماہرین کے مطابق متعلقہ وفاقی جرائم ثابت ہونے کی صورت میں زیادہ سے زیادہ سزا 20 سال قید تک ہوسکتی ہے، تاہم فیبی گیٹس کو ایسی کسی سزا کا سامنا ہونے یا سزا سنائے جانے کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔
فیا نے ابتدائی طور پر اس معاملے کو تکنیکی خرابی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ مسئلے کا علم ہونے کے بعد متعلقہ فیچرز کو ہٹا دیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق متنازع فیچرز بند کیے جانے کے بعد فیا کی اوسط یومیہ آمدنی تقریباً 80 ہزار ڈالر سے کم ہو کر 10 ہزار سے 28 ہزار ڈالر کے درمیان رہ گئی۔
فیبی کی کوڈنگ صلاحیت پر بھی سوالات
دوسری جانب فیبی گیٹس کی ٹیکنالوجی اور کوڈنگ کی مہارت پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے بعض سابق ساتھیوں نے دعویٰ کیا کہ فیبی ایک ماہر کوڈر کے طور پر نہیں جانی جاتی تھیں۔ایک سابق ساتھی کے مطابق فیبی نے اسٹینفورڈ یونیورسٹی سے ہیومن بائیولوجی میں تعلیم حاصل کی، جس کے لیے کمپیوٹر سائنس کی کلاسز لینا لازمی نہیں تھا۔ ان کے مطابق فیبی نے مبینہ طور پر ایڈوانس کوڈنگ کورسز بھی نہیں کیے۔سابق ساتھی کا کہنا تھا کہ جب فیبی اور صوفیا نے اپنے اسٹارٹ اپ ’فیا‘ کے منصوبے کا اعلان کیا تو بعض کمپیوٹر سائنس کے طلبہ نے بھی ان کی کوڈنگ کی صلاحیت پر سوالات اٹھائے تھے۔بعد ازاں فیبی نے اسٹینفورڈ میں اپلائیڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور انٹرپرینیورشپ کی ایک کلاس ضرور لی، جس نے بعد میں ’فیا‘ کے قیام میں کردار ادا کیا۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں