والدہ کی تدفین میں کیوں شریک نہ ہو سکیں؟ جیا علی نے دردناک حقیقت بتا دی
کراچی: پاکستانی اداکارہ و ماڈل جیا علی نے اپنی زندگی کے ایک انتہائی تکلیف دہ دور کا ذکر کرتے ہوئے والدہ کے انتقال اور ان کی آخری رسومات میں شرکت نہ کرنے کے حوالے سے اہم انکشافات کیے ہیں۔ایک پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے جیا علی نے اپنی زندگی، کیریئر، شادی اور والدین سے متعلق بات کی۔ والدہ کی بیماری اور انتقال کا ذکر کرتے ہوئے اداکارہ جذباتی ہوگئیں اور آبدیدہ نظر آئیں۔جیا علی نے بتایا کہ ان کی والدہ شدید بیمار رہنے کے بعد انتقال کر گئی تھیں۔ وہ عمر کے آخری حصے تک کام کرتی رہیں اور اپنی صحت پر توجہ نہ دے سکیں۔ اداکارہ کے مطابق والدہ کے انتقال کا صدمہ وہ کئی برس تک قبول نہیں کرسکیں۔انہوں نے کہا کہ آج بھی انہیں افسوس ہے کہ وہ اپنی والدہ سے اس طرح کھل کر محبت کا اظہار نہیں کرسکیں جس کی وہ مستحق تھیں۔جیا علی کا کہنا تھا کہ ان کی والدہ نے بچوں کی پرورش اور خاندان کی کفالت کے لیے بہت سی قربانیاں دیں۔ وہ مسلسل کام کرتی رہیں اور خاندان کی ذمہ داریاں اٹھاتے اٹھاتے اپنی ذات اور جذبات کو پسِ پشت ڈال دیا۔اداکارہ نے بتایا کہ والدہ بڑھاپے میں انتہائی علیل ہوگئی تھیں اور ایک وقت میں کوما میں بھی چلی گئی تھیں۔ والدہ کی زندگی کے آخری برسوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھنا ان کے لیے انتہائی تکلیف دہ تجربہ تھا، جس کی یادیں آج بھی ان کے ذہن میں تازہ ہیں۔جیا علی نے بتایا کہ جب وہ اسلام آباد میں تھیں تو انہیں والدہ کے انتقال کی اطلاع ملی۔ خبر سنتے ہی وہ ایسی کیفیت میں چلی گئی تھیں جیسے انہیں کچھ سمجھ ہی نہیں آرہا ہو اور ان کا ذہن یہ تسلیم کرنے سے انکار کررہا تھا کہ ان کی والدہ اب دنیا میں نہیں رہیں۔اداکارہ کے مطابق انہوں نے والدہ کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے لاہور جانے کے بجائے کام کے سلسلے میں کراچی کا رخ کیا۔ اہلِ خانہ نے ان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہوسکے، جس کے باعث خاندان نے دو روز بعد والدہ کی تدفین کردی۔انہوں نے بتایا کہ اس دوران نہ وہ رو سکیں اور نہ ہی کوئی ردِعمل دے سکیں۔ انہیں حقیقت کو قبول کرنے میں تقریباً چار دن لگے کہ ان کی والدہ اب ان کے درمیان نہیں رہیں۔جیا علی نے اس دور کو اپنی زندگی کے تاریک ترین ادوار میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا کہ والدہ کے انتقال کے بعد انہیں ایلوپیشیا، یعنی بال جھڑنے کی بیماری، اور ڈپریشن کا بھی سامنا کرنا پڑا۔مین ٹیگز
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں