سینٹکام نے ایران کے دعوے مسترد کر دیے، آبنائے ہرمز اور F-35 طیاروں سے متعلق وضاحت

واشنگٹن: امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ اور پاسدارانِ انقلاب سے منسوب حالیہ دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز، امریکی جنگی طیاروں اور بحری ناکہ بندی سے متعلق گردش کرنے والی اطلاعات درست نہیں۔

سینٹکام کے بیان کے مطابق ایران کا یہ دعویٰ بے بنیاد ہے کہ آبنائے ہرمز کے بحری راستے تجارتی جہازوں کے لیے غیر محفوظ ہو چکے ہیں۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس اہم عالمی گزرگاہ کے لیے اصل خطرہ ایران سے منسوب حملے اور دھمکیاں ہیں، نہ کہ بین الاقوامی بحری راستے۔

امریکی کمانڈ نے ایران کے اس دعوے کی بھی تردید کی کہ حالیہ حملوں میں ایک امریکی فوجی اڈے پر تین F-35 لڑاکا طیارے اور دیگر فوجی طیارے تباہ کیے گئے۔ سینٹکام کے مطابق کسی امریکی جنگی طیارے کو نقصان نہیں پہنچا، جبکہ ایران کے داغے گئے تمام میزائل اور ڈرون یا تو راستے میں تباہ کر دیے گئے یا اپنے ہدف تک پہنچنے میں ناکام رہے۔

اسی طرح امریکی فوج نے آئل ٹینکر M/T Nora سے متعلق ایرانی دعوے کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکی بحری ناکہ بندی پوری طرح مؤثر ہے۔ سینٹکام کے مطابق ناکہ بندی پر عمل درآمد کے لیے 20 سے زائد جنگی بحری جہاز، سیکڑوں فوجی طیارے اور ہزاروں اہلکار تعینات ہیں، جبکہ بحری نگرانی اور کارروائیاں مسلسل جاری ہیں۔

امریکی اور ایرانی حکام کے متضاد بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز سے متعلق صورتحال عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے