مسلک سے بالامسجد اور سانحہ پارا چنار

 مساجد اللہ کا گھر کہلاتی ہیں اور اللہ کی بندگی پر یقین رکھنے والا ہر شخص بلا روک ٹوک اس گھر میں داخل ہو سکتا ہے پھر اگر یہ داخلہ عبادت پروردگار کے لیے ہو تو روکنے یا قدغن لگانے کا کوئی جواز ہی نہیں رہتا۔ بدقسمتی سے موجودہ دور کے مسلم معاشروں خاص طور پرپاکستان میں تو یوں لگتا ہے کہ مساجد اللہ کا گھر نہیں بلکہ مسالک کی جاگیر ہیں۔

اکثر مساجد میں تو دیواریں اپنے مسلک کی ہر بات کو سچ ثابت کرنے کے حوالہ جات اور دوسرے مسالک کے خلاف منفی تحریروں  سے بھری ہوتی ہیں۔ بعض اوقات تو نوبت یہاں تک بھی پہنچی کہ مختلف سوچ رکھنے والے افراد کو بے دخل کر کے مساجد کو باقاعدہ غسل دیا گیا۔ یہ سلوک تبلیغی جماعت کے ساتھ تو متعدد بار رپورٹ ہوا لیکن اب کئی دوسرے مکاتب فکر کے افراد بھی اس کا نشانہ بن رہے ہیں ۔  سوشل میڈیا پر یہ نفرت انگیز مواد تو ایسی بھیانک شکل اختیار کر گیا ہے کہ    جسے روکنے کی کوئی صورت ہی نظر نہیں آ رہی ۔

ویوز لائیکس اور کمنٹس کے لیے دین اور مذہب کے ساتھ جو کھلواڑ آج کیا جا رہا ہے شائد ماضی میں کسی نے بھی نہ کیا ہو۔ مذہبی منافرت کا یہ افسوسناک رویہ اس وقت مزید سنگین صورت اختیار کر جاتا ہے جب اس کو لسانی علاقائی اور سیاسی رنجش کا بھی تڑکا لگا دیا جائے۔ بعض اوقات تو کمرشل مقاصد کے لیے بھی اس مذہبی منافرت کو مزید ہوا دے دی جاتی ہے ۔ اب تو اراضی تنازعات بھی مذہبی فسادات میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ پاڑہ چنار ہنگو کوہاٹ اور گلگت کے کچھ علاقے کئی بار ایسی منافرت کا نشانہ بن چکے ہیں۔ پاکستان کے دشمن بھی ہماری اس کمزوری کو اچھی طرح جان چکے ہیں اور ایسے کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے  جانے نہیں دیتے۔

میں نے کراچی لاہور پشاور راولپنڈی اور اسلام آباد میں کام کے دوران 24 سال گزارے ۔ میرا معمول رہا ہے میں اپنے قرب و جوار کی  زیادہ سے زیادہ مساجد میں ایک بار ضرور جانے کی کوشش کرتا ہوں پھر جہاں ماحول اچھا لگے تو موقع ملنے پر بار بارجاتا ہوں ۔ میں مسالک کی تفریق کیے بغیر کسی بھی مسجد میں نماز ادا کرنے میں کبھی ہچکچاہٹ کا شکار نہیں ہوا لیکن مساجد کی دیواروں پر لکھی بعض تحریروں سے دکھی ضرور ہوتا رہا۔ مختلف مکاتب فکر کی مساجد میں جانے سے بہت سی اچھی چیزیں بھی سیکھنے کو ملیں۔ حال ہی میں مجھے اسلام کے سیکٹر ای الیون ٹو جانے کا اتفاق ہوا۔

سروسز سوسائٹی کی مسجد کا میناردورسے نظر آ رہا تھا میں نماز ظہر کے لیے اسی مسجد  چلا گیاقریب پہنچ کر دیکھاتو دیوار پر جلی حروف میں لکھا تھا مسجد بلاتفریق مسالک۔۔دل کو چھو لینے والے یہ الفاظ دیکھ کر  بڑا اطمینان ہوا۔ نماز کے بعد پوری مسجد کا تفصیل سے جائزہ لیا تو مجھے یہ مسجد ماضی کے تجربات سے بالکل برعکس لگی۔ اس کی دیواریں اتحاد کا درس دینے والی آیات اور احادیث سے مزین تھیں۔ اقبال کے فکر انگیز کلام سے بھی کچھ اشعار دیواروں پر لکھے نظر آرہے تھے اور لائبریری کی کتب سے استفادہ کے لیے تو اذن عام تھا۔ مسجد سے منسلک اسلامک سنٹر کے بارے میں معلومات لیں تو یہ روایتی مدرسہ سسٹم کے مقابلے میں ایک منفرد ادارہ نظر آیا۔

میں اس ماحول پر اطمینان محسوس کر ہی رہاتھا کہ اچانک مجھے پاڑہ چنار اور کرم میں فرقہ وارانہ فسادات کی حالیہ لہر اور پریشان کن صورتحال نے گھیر لیا جہاں مساجد سے اعلانات کر کے فرقہ وارانہ آگ کو اس قدر ہوا دی گئی کہ 50 کے  قریب لوگ اس کی لپیٹ میں آکر لقمہ اجل بن گئے اور 200 سے زائد زخمی ہو گئے۔ یہ پہلا موقع نہیں جب بلوے اور فساد کے لیے مساجد کے لاؤڈ سپیکر سے پکارا گیا ۔ ماضی میں ایسے جان لیوا واقعات کرم مردان سوات گوجرہ, گوجرانوالہ سمیت کئی شہروں میں بھی پیش آچکے  ۔

 مسجد کے پلیٹ فارم سے صرف بھلائی کی پکار ہی آنی چاہئے اگر ہم ایسا نہ کر سکے تو جو حالات آج پاڑہ چنار کے ہیں وہ کل دوسرے علاقوں کے بھی ہوسکتے ہیں یہ آگ پھیلے گی  تو کوئی سلامت نہیں رہے گا۔ اس سے پہلے کہ یہ تباہی ہم سب تک پہنچے آئیں ہم سب عہد کریں کہ اگر ہم اپنی مساجد کو ای الیون جیسی آئیڈیل نہیں بھی بنا سکتے تو پاڑہ چنار جیسی مساجد بھی نہ بننے دیں جہاں اذان پر 50 آدمی بھی مسجد نہ پہنچیں اور  مخالف فرقے کے خلاف پکارا جائے تو پورے پورے دیہات کے لوگ مورچہ زن ہو کر دوسروں کی جان لینے کے درپے ہو جائیں۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے