اب ہمیں بے کتاب رہنے دے!

خوابوں کے بغیر حقیقتوں کا وجود ممکن نہیں!دیوار نہ ہوتو سایہ کیسا؟…پھول نہ ہوں تو خوشبو کہاں سے آئے؟…سورج نہ ہو تو روشنی اور حرارت کا وجود ناممکن !…خواب بیج ہوتے ہیں، حقیقتیں ان کا ثمر!
”اور باتوں کا مجھے پتہ نہیں بس میں مغربی تہذیب کا بہت مخالف ہوں۔ مجھے یہ ایک نظر نہیں بھاتی۔”
”کیا وجہ ہے اس مخالفت کی؟”
”کسی کے خلاف ہونے کے لئے ضروری نہیں کہ کوئی وجہ بھی ہو۔ خلاف ہونے کے لئے بس خلاف ہونا ضروری ہوتاہے۔ کچھ چیزیں اتنی خراب ہوتی ہیں کہ ان کوخراب قراردینے کے لئے کسی دلیل کی ضرورت نہیں ہوتی۔ کچھ جھوٹ اتنے بڑے ہوتے ہیں کہ ان کے خلاف کوئی ثبوت پیش کرنا ضروری نہیں بس انہیں جھوٹ کہہ دینا ہی کافی ہوتا ہے۔”
”لیکن آج کے سائنسی دور میں تو لوگ ثبوت مانگتے ہیں۔ مشاہدے اور تجربے کی دلیل سے قائل ہوتے ہیں۔”
”لوگوں کا کیا ہے، نہ ماننے پہ آئیں تو سورج کو نہ مانیں اور ماننے پر اتر آئیں تو ہر دیوانے کو پہنچا ہوا بزرگ تسلیم کرلیں۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ اندھا دھند اس کلچر کے دلدادہ ہوتے جا رہے ہیں۔ماکولات، مشروبات، ملبوسات، زبان، ادب، نظریات ۔۔۔کیا بچا ہے اب اپنی تہذیب کا ہمارا”
”تو کیا سمجھتے ہیں آپ کہ لوگوں کو محض یہ بتادیاجائے کہ میں تہذیب مغرب کا مخالف ہوں کیوں کہ یہ بہت بری تہذیب ہے۔۔ تو اس طرح لوگوں کو اس سے بچایاجاسکتا ہے؟”
” ماتم ہی بچا ہے اپنی تہذیب کا۔۔۔لوگ جب گند میں پڑ کے خوش ہیں تو کیا کیا جائے!”
” سارے تو مسرور نہیں ہو ں گے، کچھ مجبور بھی تو ہوں گے۔ اگر آپ اس معاشرے کو بدلنا چاہتے ہیں تو بہرحال لوگوں کی سوچ، ذہنی سطح ، پسند و ناپسند اور ترجیحات وخواہشات کا تجزیہ کرنا ہوگا۔ پھر حکمت کے ساتھ انہیں قائل اور مائل کرنا ہوگا۔ کانٹوں کے خریدار کو اگر پھول تھمانا چاہتے ہیں تو پہلے اسے کانٹوں کے نقصانات اور پھولوں کے فوائد سے آگاہ کریں۔ یوں آپ انہیں لوگوں میں سے خیر کے طلبگار نکال سکتے ہیں۔ ”
” گندگی کے ڈھیر سے کیا نکلے گا؟”
"یہ لوگ اتنے گندے نہیں ہیں جتناکہ ہم سمجھتے ہیں۔پھر یہ بھی یاد رکھئے کہ گندگی کے ڈھیر میں سے بھی بعض اوقات ایسی سرسبز شاخ نکل آتی ہے جس پر خوشبودار پھول سجا ہوتاہے۔ گوالوں کی بستی سے صرف اس لئے دور چلے جائیں کہ گوبر کے ڈھیر راستے میں آئیں گے تو پھر آپ وہاں سے دودھ کیسے برآمد کرسکتے ہیں؟ اگر بدیسی تہذیب ہماری تہذیب کو نقصان پہنچارہی ہے تو اس کے سائے میں عافیت تلاش کرنیوالے،آپ کی رہنمائی کے طلبگار ہیں۔ ان لوگوں کو آگاہ کرنے کے لئے خطرات سے متنبہ کرنے کے لئے ، نقصان بتانے کے لیےاور اعلیٰ تہذیب سے روشناس کروانے کے لئے وسیع علم اور اعلیٰ کردار کی ضرورت ہے۔”
”کردار والی بات تو مان لی مگر علم اور مطالعہ کی کیا ضرورت ہے۔زبانی کلامی بات نہیں ہوسکتی!!!”
”ہو تو سکتی ہے مگر زبانی کلامی باتیں اور سنی سنائیں حقیقتیں بیان کرتے رہنا سطحی طرز فکر پھیلاتی ہیں۔ راسخ علم کے لئے تو مطالعہ ، تجزیہ اور ناقدانہ نظر ضروری ہوتی ہے۔ آج کی تہذیب برسوں کی فکری کاوش کا نتیجہ ہے۔ انسان نے ایمان کے بغیر، عقل کے سہارے، خواہشات کی اطاعت کا راستہ اختیار کیا ہے۔ اب اس ظلمات سے نکلنے کے لئے اسے ایمان کی روشنی اور علم حقیقی کے سہارے کی ضرورت ہے۔ یوں انسان فطری زندگی اور حقیقی منزل کی طرف گامز ن ہوسکتا ہے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ کتاب ہدایت کی روشنی میں مروجہ علوم پر دسترس حاصل کی جائے اورانسانی افکار کی کجی اور کوتاہی کو سامنے لایا جائے۔ انسانی فکر کی نارسائی کے منفی اثرات سے لوگوں کو آگاہ کیا جائے اور پھرانہیں صراط مستقیم دکھایاجائے۔”
”یہ نسخہ تو بہت بوجھل ہے، ہمیں کوئی سیدھا سادہ طریقہ بتائیں۔ ویسے زیادہ علم بھی آدمی کو خراب کرتا ہے۔ کتاب تو بندے کو بے کار کر دیتی ہے۔ اب ہمیں بے کتاب رہنے دے!”
” یہ تو عقل دشمنی ہے بھائی!”
” بھائی صاحب !عقلمند محتاط ہوجاتاہے جسے ہم بزدلی کہاکرتے ہیں۔ بہادری کے لئے کسی حد تک بے وقوفی ضروری ہے۔ عقل انسان کو چالاک بناتی ہے، معصوم نہیں رہنے دیتی۔۔۔عمل کے لیے خلوص درکار ہے اورخلوص سادگی میں ہے، بے خطر کود جانے کیلئے جنون اور دیوانگی درکار ہے۔ عقل تو محوتماشائے لب بام رہتی ہے۔ دانشور بے کار ہوجاتے ہیں، سمجھدار بے عملی کا شکار ہوجاتے ہیں کہ کہیں ایسا نہ ہوجائے! کہیں ایسا نہ ہوجائے!”
”جی ہاں ! اگر علم ایمان کے بغیر ہو تو یہی ہوتا ہے۔ علم معلومات کے ذخیرے کا نام نہیں ہے۔ علم تو زندگی کے حقائق سے آگاہی کا نام ہے۔ یہ حقیقی آگاہی، خالق کائنات کی طرف سے عطاء کردہ، الہامی علم کے ذریعے ہی ممکن ہے ۔جو علم بھی ہے ایمان بھی۔عقل کو ایمان کے تابع کرکے کرشمے دیکھے جاسکتے ہیں۔ اصل دانائی اللہ تعالیٰ کا خوف ہے ، خدا خوف ہی، دراصل علم والے ہیں۔ یہ وہ علم والے ہیں جو بزدل نہیں ، بہادر ہوتے ہیں۔ یہ وہ دیوانگی ہے جو کتاب و حکمت کی روشنی سے سراپا شعور و فرزانگی بن جاتی ہے۔”
”آپ کی اس بات سے شاید انکار ممکن نہ ہو مگر کتابوں میں کیا رکھاہے ؟ سچ بولو اور پوراتولو! ۔۔۔کتاب کے علاوہ تو کہیں نظرنہیں آتا۔ پڑھنے والا اور پڑھانے والا روزانہ دہراتے ہیں مگر عملی زندگی میں اس کا وجود نہیں ہے۔آپ تو مجھے قائل کرکے کتابی کیڑا بنانا چاہتے ہیں۔ میں ایک عملی قسم کا آدمی ہوں۔ مجھے کتابوں سے کیا واسطہ؟ کتاب وہ پڑھے جسے کوئی کام نہ ہو۔زیادہ جاننے والا، ماننے اور تسلیم کرنے کے لئے، دلیل اور جواز مانگتا ہے اور یوں وہ مطیع و فرمانبردار نہیں رہتا۔ زیادہ علم تو بغاوت پیداکرتا ہے۔ ذہنی برتری کا احساس دلاتا ہے۔ہمیں تو علم والوں کی نہیں عمل والوں کی ضرورت ہے، آپ تو خوابوں کی باتیں کرتے ہیں۔”
”خوابوں کے بغیر حقیقتوں کا وجود ممکن نہیں۔ ہماری زندگی کی حقیقتیں ہمارے خوابوں ہی کی عکاس ہوتی ہیں۔ دیوار نہ ہوتو سایہ کیسا؟ پھول نہ ہوتو خوشبوکہاں سے آئے؟ سورج نہ ہو تو روشنی اور حرارت کا وجود ناممکن۔۔۔خواب بیج ہوتے ہیں حقیقتیں ان کا ثمر۔کتاب آپ کی فکر کو پختہ کرتی ہے، آپ کے شعور کو روشنی دیتی ہے، بصارت اور بصیرت کو توانائیوں سے معمور کرتی ہے۔ کتاب وہ سوچ دیتی ہے جس پر عمل کرکے آپ زندگی کو نت نئی نعمتوں سے سرفرازکرتے ہیں۔ سچ بولو اور پوراتولو، کتاب میں نہ ہو تو عمل میں کیسے آئے گا؟ اور اگر عمل میں ہم نہیں لارہے تو اس میں کتاب کا کیا قصور ہے؟ اگر زہر سے ہلاک ہورہے ہوں اور خودتریاق کو استعمال نہ کریں تو اس میں تریاق کیا قصور؟ آپ دیا قبرستان میں جلائیں اور زندہ آبادیوں میں روشنی نہ آنے کا گلہ کریں! آپ کہتے ہیں علم آدمی کو محتاط بنا دیتا ہے۔ میں سمجھتاہوں کہ علم آپ کو احتیاط ہی نہیں امتیاز سکھاتا ہے، صحیح اور غلط ، جائز اور ناجائز، حق اور باطل کا! یہ احتیاط بزدلی نہیں ہوتی ۔شعور و حکمت کے استعمال کے بغیر سر دھڑ کی بازی لگاتے جانا، سر پھوڑنے اور جان گنوانے کا باعث بنتا ہے۔ جنگیں صرف بہادری سے نہیں حکمت و دانائی کے استعمال سے جیتی جاتی ہیں۔”

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے