کیسے بدلے گا رُخ ہواؤں کا
انسان تو محبت سے رام کئے جاتے ہیں۔ پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگر۔ ڈنڈا سرجھکا سکتا ہے، دل نہیں موہ سکتا۔جب قوت سے سر جھکائے جائیں تو دل باغی ہوجاتے ہیں۔ دل فتح کرلئے جائیں تو سر خود بخود جھک جاتے ہیں۔ سروں پر حکومت عارضی ہوتی ہے، دلوں پر راج ابدی ہوتا ہے۔
”آپ کتابوں کی بات کررہے ہیں ۔ خدارا عمل کے میدان کی بات کیجئے! عمل کے میدان میں تو قوت ہی سب کچھ ہے۔ جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔ بات میں اثر نہیں جب تک ہاتھ میں ڈنڈا نہ ہو!”
”گالی تو دلائل کے خاتمے کا اعلان ہوتی ہے۔ ڈنڈا تو جاہلوں کی زبان ہے جس سے جانور سدھائے جاتے ہیں۔ انسان تو محبت سے رام کئے جاتے ہیں۔ پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگر۔ ڈنڈا سرجھکا سکتا ہے، دل نہیں موہ سکتا۔جب قوت سے سر جھکائے جائیں تو دل باغی ہوجاتے ہیں۔ دل فتح کرلئے جائیں تو سر خود بخود جھک جاتے ہیں۔ سروں پر حکومت عارضی ہوتی ہے، دلوں پر راج ابدی ہوتا ہے۔”
”دیکھئے جی! وقت بہت قیمتی چیز ہے۔ اسے آپ کی طرح اگر سوچنے میں ضائع کردیا جائے تو فطرت کے قانون کی خلاف ورزی ہے۔ ویسے بھی قوت کے استعمال سے کام جلدی ہوتاہے اور آسان بھی۔ پھر کم وقت میں زیادہ کام اور پھر…”
”یہ کام عارضی ہوتا ہے، جناب۔ ریت کی دیوار اور تارعنکبوت کی طرح۔۔۔بے بنیاد بھی ہوتا ہے، پانی پر ہوا کے بنائے ہوئے نشانات بہت جلد مٹ جاتے ہیں۔”
”ہم بددیانت افراد کا محاسبہ کرنا چاہتے ہیں۔لوگوں کو ساتھ ملا کر…اور یہ کام بزور بازو ہوگا۔ اگر آپ دوسروں کی عزت کرتے پھریں گے تو یہ کام نہیں ہوسکتا۔”
”دیکھئے ! انسان کی اپنی نظر میں اس کی سب سے قیمتی چیز اس کی انا ہے، خودی ہے، اپنی حیثیت کا حصار اور اپنی ہستی کا ادراک ہے۔ اپنی اہمیت کا زعم اور اپنی قوت کا وہم ہے۔ اس کے لئے وہ ہر چیز قربان کرسکتا ہے۔ انسان جتنا پیچیدہ ہے اتنا ہی نازک ہے۔ اس کی نفسیات کا تانا بانا عجیب طرز پر بناگیا ہے۔ آپ اسے قائل اور مائل کرکے، دلیل اور تدریج کے ساتھ، ترکیب اور ترتیب کے تحت…اس پر حکومت کرلیں، وہ برامحسوس نہیں کرے گا لیکن اگر آپ نے اس کی انا پر، ان سب آداب کے بغیر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کی تو وہ سراپا احتجاج بن کر آپ کے ہاتھ چھلنی کردے گا۔ اس کی انا کے شیش محل کو ٹھیس بھی لگے گی تو وہ آپ پر پتھروں کی بارش کردے گا۔ انا کا شعور اور پھر اس کا اظہار طوفان کی شکل اختیارکرلےتوعجز و انکساری کے سمند ر بھی آگ کے آلاؤ میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔”
”جناب من! لوگ محبت کی زبان نہیں سمجھتے۔۔۔ ہماری قوم کا مزاج بھی غلامانہ ہے، قوت والے کے پیچھے لگتے ہیں۔ کمزور کا مذاق اڑاتے ہیں۔ شرافت کو بزدلی سمجھتے ہیں۔ نرم خوئی کو بے وقوفی جانتے ہیں اور اخلاص کو کم عقلی ۔۔۔”
” اس کا مطلب ہے آپ لوگوں کے اسی مزاج کو اور پختہ کرناچاہتے ہیں! آپ بھی اسی بے حسی سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں، دیکھئے! ہماری قوم کئی حادثوں کا شکار ہوئی ہے۔ حادثہ ہو تو کچھ مسافر جان سے جاتے ہیں۔ کچھ اتنے زخمی ہوتے ہیں کہ کچھ عرصے بعد جہانِ فانی سے کوچ کرتے ہیں، کچھ مستقل طور پر معذور ہوجاتے ہیں۔کچھ کی بصارتیں اور کچھ کی بصیرتیں گم ہوجایاکرتی ہیں۔۔۔
کچھ ذہنی اور نفسیاتی بیماریوں کا شکارہوجاتے ہیں…کچھ اللہ تعالیٰ کے حکم سے سلامت بھی رہتے ہیں۔ یہی قوم کے مسیحا بن سکتے ہیں۔ انہیں مجتمع کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہی سفینے کو منجدھار سے باہر نکال سکتے ہیں۔”
”یہ بات توآپ کی درست لگتی ہے مگر… کچھ لوگوں کا مزاج ہی ایسا ہوتا ہے کہ قوت کے استعمال کے سوا چارہ ہی نہیں رہتا۔”
”پاگل اگر پتھر اٹھا کے مارے تو اس کےجواب میں پتھروں کی بارش کردینا چاہئے یا اس کے علاج کی فکر کرنا چاہئے؟…آپ کا کام انسانوں کو راہِ راست پرلانا ہے یابدمزاجوں کے مزاج، ڈنڈے کے زور پر درست کرنا ہے۔ آپ انسانیت کی تعمیر کرنا چاہتے ہیں یا اپنی انا کی تسکین مطلوب ہے؟ آپ اسکندر اور چنگیز ہیں یا ابن مریم اور ابن قاسم؟؟”
”خیر ایسا تو نہیں ہے، مگر بُرے کو بُرا تو کہنا ہی پڑتا ہے۔۔۔”
”دیکھئے! شور مچانے سے سانپ چھپ جایاکرتے ہیں اور ممکن ہے آپ کی آستین ہی میں چھپ جائیں اور کسی مناسب موقع پر اپنی فطری ذمہ داری نبھانے لگیں۔۔۔
چور چور کرنے سے چور روپ بدل لیتا ہے اور اس طرح بھی ہوسکتا ہے کہ آپ کے ساتھ مل کر وہ کسی اور کو چور کہہ کر اس کے پیچھے ہولے۔ ۔۔اور یہ بھی ممکن ہے بلکہ آج کل یقینی ہے کہ وہ آپ ہی کو چور ثابت کرنے میں کامیاب ہوجائے گا اورلوگ آپ پر ہنسیں گے۔ خلقت شہر تو کہنے کو فسانے مانگے…آپ جھوٹ کے مقابلے میں بڑا جھوٹ کہاں سے لائیں گے؟؟؟
اس لئے صبر اور حوصلے کی ضرورت ہے حکمت اور تدریج کی ضرورت ہے۔ خلقت شہر کو ہمنوا بنایئے! ہاں انہیں متحرک بھی کیا جاسکتا ہے ۔۔۔ صداقتوں پر عمل پیراہوکر، بغیر کسی اشتہار بازی کے ، انصاف کی تلاش میں، فقط خدا کے سامنے جواب دہی کے احساس کیساتھ۔۔۔پھر دیکھئے لوگ کیسے آپ کے ساتھ چلتے ہیں اور کتنی تعداد میں چلتے ہیں۔ "
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں