پاکستان اور سعودی عرب کا میڈیا، ثقافت اور سیاحت میں تعاون بڑھانے پر اتفاق
اسلام آباد: پاکستان اور سعودی عرب نے اطلاعات، نشریات، میڈیا، ثقافت اور سیاحت سمیت مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان ڈراموں، موسیقی، ادب اور ڈیجیٹل مواد کے تبادلے کے لیے مشترکہ اقدامات کی تجاویز بھی سامنے آئی ہیں۔وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ سے پاکستان میں تعینات سعودی عرب کے سفیر راجع بن طامی البقمی نے ملاقات کی۔ اس موقع پر وفاقی وزیر نے سعودی سفیر کو پاکستان میں تعیناتی پر مبارکباد دیتے ہوئے خوش آمدید کہا اور دونوں ممالک کے درمیان میڈیا، ثقافت اور عوامی روابط کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور دیا۔عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات نئی بلندیوں کو چھو رہے ہیں اور میڈیا، ثقافت، ڈرامہ، موسیقی، سیاحت اور عوامی روابط کے شعبوں میں تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے تعلقات کئی نسلوں پر محیط ہیں اور یہ محض سفارتی یا سیاسی نوعیت کے نہیں بلکہ تاریخی، مذہبی اور عوامی سطح پر بھی مضبوط بنیادیں رکھتے ہیں۔وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مکہ دفاعی معاہدہ دفاعی تعاون کے حوالے سے مضبوط شراکت داری کا عکاس ہے۔ انہوں نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی قیادت میں سعودی عرب میں معاشی اور ثقافتی شعبوں میں آنے والی تبدیلیوں کو بھی سراہا۔انہوں نے سعودی شہر العلا میں سیاحت کے فروغ اور الدرعیہ کی تاریخی و ثقافتی اہمیت کو جدید انداز میں اجاگر کرنے کو سعودی قیادت کے وژن کی نمایاں مثالیں قرار دیا۔ملاقات کے دوران پاکستانی ڈراموں کو سعودی عرب میں متعارف کرانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستانی ڈرامے خاندانی اقدار، مشرقی روایات اور اسلامی ثقافت کی عکاسی کرتے ہیں، اس لیے انہیں سعودی ناظرین تک پہنچانے کے امکانات تلاش کیے جانے چاہئیں۔وفاقی وزیر نے دونوں ممالک کے درمیان ادیبوں، شاعروں، فنکاروں، موسیقاروں، میڈیا نمائندوں اور ڈیجیٹل مواد تخلیق کرنے والوں کے وفود کے تبادلوں کی تجویز بھی پیش کی۔ انہوں نے سعودی عرب میں مقیم پاکستانی شہری فرمان علی خان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے 2009 میں جدہ میں سیلاب کے دوران متعدد افراد کی جانیں بچاتے ہوئے اپنی جان قربان کرکے دونوں ممالک کے عوام کے درمیان محبت اور بھائی چارے کی روشن مثال قائم کی۔عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان قدرتی حسن اور تاریخی مقامات کے اعتبار سے سیاحت کے بے پناہ مواقع رکھتا ہے۔ انہوں نے سعودی میڈیا نمائندوں، سیاحوں اور ڈیجیٹل انفلوئنسرز کو پاکستان کے مختلف سیاحتی مقامات کے دورے کی دعوت بھی دی۔ملاقات میں غلط معلومات اور منفی پروپیگنڈے کی روک تھام، فیکٹ چیکنگ کے نظام کو مؤثر بنانے اور مشترکہ ثقافتی اقدار کی عکاسی کرنے والا مواد تیار کرنے میں تعاون کی ضرورت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفاقی وزیر نے اس مقصد کے لیے مشترکہ ورکنگ گروپ قائم کرنے کی تجویز دی، جس میں دونوں ممالک کے فوکل پرسنز اور تکنیکی ٹیمیں شامل ہوں۔انہوں نے سعودی سفیر کو سوشل میڈیا انفلوئنسرز کی صلاحیتوں سے استفادہ کرتے ہوئے عوامی آگاہی اور اہم حکومتی اقدامات کی تشہیر کے حوالے سے بھی آگاہ کیا۔ عطاء اللہ تارڑ کے مطابق وزیراعظم فیول ریلیف اسکیم سے متعلق ایک سوشل میڈیا پوسٹ کو 80 لاکھ سے زائد مرتبہ دیکھا گیا۔اس موقع پر سعودی سفیر راجع بن طامی البقمی نے پاکستان اور سعودی عرب کے مضبوط برادرانہ تعلقات، باہمی اعتماد، احترام اور سیاسی و عسکری تعاون کو قابلِ فخر قرار دیا۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی تقریبات، فنون، ادب اور میڈیا کے شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں