اوباما کی ایران جنگ پر ٹرمپ پر تنقید، سفارت کاری کو بہتر راستہ قرار دے دیا
اٹلانٹا: سابق امریکی صدر بارک اوباما نے ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جواز پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں تھے اور سفارت کاری کے ذریعے اس کے جوہری پروگرام کو محدود کیا جا سکتا تھا۔بارک اوباما نے اپنے دورِ صدارت میں ایران کے ساتھ 2015 میں ہونے والے جوہری معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے کے ذریعے تہران کے جوہری پروگرام پر پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔ ان کے مطابق اس وقت میزائل حملوں کے بجائے سفارت کاری کا راستہ اختیار کیا گیا تھا تاکہ ایران کی جوہری سرگرمیوں کو محدود کیا جا سکے۔سابق امریکی صدر نے ایران کے خلاف جنگ کے اثرات پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ کے نتیجے میں امریکا کے اتحادیوں اور فوجی اڈوں کو حملوں کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ متعدد امریکی فوجی ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے۔اوباما کے مطابق جنگ کے دوران امریکی میزائلوں کے ذخائر میں بھی کمی آئی ہے، جس سے ان کے بقول امریکا کی سلامتی کی صورت حال متاثر ہوئی ہے۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ آبنائے ہرمز پر ایران کا اثرورسوخ بڑھ گیا ہے اور اسے اس اہم بحری گزرگاہ کے معاملات میں ویٹو جیسی طاقت حاصل ہوگئی ہے۔بارک اوباما نے آبنائے ہرمز کی صورت حال کو تیل کی قیمتوں میں اضافے کی ایک وجہ قرار دیا۔ آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم بحری گزرگاہ ہے، جہاں کشیدگی عالمی توانائی کی منڈیوں، تیل کی فراہمی اور قیمتوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔اوباما کے بیان میں ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے بجائے سفارتی کوششوں کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا، جبکہ جنگ کے فوجی، معاشی اور علاقائی اثرات پر بھی سوالات اٹھائے گئے
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں