کولمبیا کا مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیلی سفارت خانہ کھولنے کا فیصلہ، فلسطینی اتھارٹی کی مذمت
یروشلم: کولمبیا نے بدھ کے روز مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیل کے لیے باضابطہ طور پر اپنا سفارت خانہ کھول دیا، جس پر فلسطینی اتھارٹی نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اس اقدام کو بین الاقوامی قراردادوں کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔اس پیش رفت کے بعد کولمبیا ان ممالک میں شامل ہوگیا ہے جنہوں نے مقبوضہ بیت المقدس میں سفارت خانہ قائم کرکے اسرائیلی خودمختاری کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک کے اسرائیل میں سفارت خانے تل ابیب میں قائم ہیں، کیونکہ ان کے نزدیک بیت المقدس کی حتمی حیثیت کا فیصلہ مسئلہ فلسطین کے حل کے ساتھ ہونا چاہیے۔اسرائیلی وزیر خارجہ گدعون صاعر نے سفارت خانے کی مہمانوں کی کتاب میں دستخط کرتے ہوئے اس دن کو اسرائیل اور بیت المقدس کے لیے اہم قرار دیا۔کولمبیا کے انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے نئے صدر ابیلارڈو ڈی لا ایسپریلا نے جولائی میں سفارت خانہ یروشلم منتقل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ یہ فیصلہ سابق صدر گستاوو پیٹرو کی پالیسی سے واضح طور پر مختلف ہے، جنہوں نے 2024 میں غزہ پر اسرائیلی حملوں کے خلاف احتجاجاً اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کر دیے تھے۔دوسری جانب فلسطینی وزارت خارجہ نے مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیلی سفارت خانہ کھولنے کے اقدام کی شدید مذمت کی ہے۔ وزارت خارجہ کے مطابق یہ اقدام بین الاقوامی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی، مقدس شہر کی قانونی حیثیت سے متعلق عالمی اتفاق رائے کو نقصان پہنچانے اور فلسطینی عوام کے ناقابل تنسیخ حقوق کی پامالی کے مترادف ہے۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں