جنگ کے دوران ایرانی حملوں سے بحرین میں امریکی فوجی اڈےکو شدید نقصان پہنچا، نئی سیٹلائٹ تصاویر جاری
امریکی اخبار نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ امریکا اسرائیل ایران جنگ کے دوران ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں سے بحرین میں واقع امریکی بحریہ کے اڈے کو شدید نقصان پہنچا۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق بحرین میں قائم امریکی بحریہ کے اڈے کو فروری کے آخر سے جون تک بارہا نشانہ بنایا گیا۔
سیٹلائٹ تصاویر، سوشل میڈیا ویڈیوز اور موجودہ و سابق فوجیوں کے انٹرویوز پر مبنی ایک تجزیےکے مطابق ان حملوں سے بڑے پیمانے پر نقصان ہوا، جسے امریکی محکمہ دفاع نے عوامی سطح پر تسلیم نہیں کیا۔

ان حملوں میں کمانڈ ہیڈکوارٹرز، کم از کم ایک درجن عمارتیں اور 2 سیٹلائٹ کمیونیکیشن مراکز شدید متاثر ہوئے۔
امریکی فوج کے مطابق اس اڈے، جسے ’نیول سپورٹ ایکٹیویٹی بحرین‘ کہا جاتا ہے پر کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور نہ ہی ان حملوں سے آپریشنز پر نمایاں اثر پڑا، جنگ کے دوران یا اس کے بعد امریکا نے زیادہ تر عملے کو یہاں سے نکال لیا تاہم محدود تعداد میں اہلکار اب بھی وہاں موجود ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان کیپٹن ٹم ہاکنز کے مطابق جنگ کے دوران انسانی جانوں کے تحفظ کو عمارتوں کے تحفظ پر ترجیح دی گئی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران نے 8 ہزار سے زائد میزائل اور ڈرون داغے، جن میں سے صرف 2 حملوں کے نتیجے میں امریکی ہلاکتیں ہوئیں۔ ان کے مطابق امریکا نے ایران کو کہیں زیادہ نقصان پہنچایا اور 13 ہزار 500 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا۔
اخبار کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں امریکا کے واحد بحری اڈے کو ہونے والے بڑے نقصان اور خطے میں کم از کم 20 امریکی تنصیبات، جن میں فوجی اور سفارتی مراکز شامل ہیں، پر حملوں کے بعد امریکا خطے میں اپنی مجموعی عسکری موجودگی پر ازسرِ نو غور کر رہا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق فوج بحرین کے اڈے کی ازسرِ نو تعمیر، کویت اور سعودی عرب میں اپنی موجودگی کم کرنے اور بعض اڈوں یا ان کے آپریشنز کو مغرب کی جانب منتقل کرنے پر غور کر رہی ہے تاکہ وہ ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کی رینج سے باہر رہیں۔
حکام کے مطابق ممکن ہے کہ متاثرہ عمارتوں کو دوبارہ تعمیر نہ کیا جائے جبکہ کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹمز کو زیرِ زمین منتقل کیا جا سکتا ہے اور عسکری صلاحیتوں کو خطے میں مختلف مقامات پر پھیلایا جا سکتا ہے تاہم اس حوالے سے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔
ذرائع کے مطابق اسرائیل بھی ان مقامات میں شامل ہے جہاں امریکی اڈہ قائم کرنے پر غور کیا جا رہا ہے، جنگ کے دوران وہاں درجنوں امریکی طیارے، بشمول لڑاکا طیارے اور ایندھن فراہم کرنے والے طیارے تعینات کیےگئے تھے۔
امریکی محکمہ دفاع نے ایران جنگ میں ہونے والے نقصانات کی لاگت کے حوالے سے کانگریس کو تفصیلات فراہم کرنے سے بھی گریز کیا جس پر قانون سازوں نے برہمی کا اظہار کیا۔
محکمہ دفاع کے مالی امور کے سربراہ نے بتایا کہ جنگ کی مجموعی لاگت جو تقریباً 29 ارب ڈالر بتائی گئی، میں امریکی اڈوں کو پہنچنے والے نقصانات شامل نہیں۔
ایک تھنک ٹینک کی رپورٹ کے مطابق جنگ کی مجموعی لاگت تقریباً 40 ارب ڈالر رہی، جس میں امریکی اڈوں کو ہونے والا نقصان کا تخمینہ 2.2 سے 5.1 ارب ڈالر کے درمیان لگایا گیا ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل نے بحرین کے امریکی بحری اڈے پر صرف تعمیراتی نقصان کا تخمینہ تقریباً 400 ملین ڈالر لگایا ہے جس میں ملبہ ہٹانے اور دیگر اضافی اخراجات شامل نہیں ہیں۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں