غزہ میں انسانی بحران: پاکستان کا سلامتی کونسل سے فیصلہ کن اقدامات کا مطالبہ
نیویارک: پاکستان نے سلامتی کونسل سے غزہ میں انسانی بحران روکنے کیلئے فیصلہ کن اقدامات کا مطالبہ کر دیا۔
پاکستانی مندوب عاصم افتخار نے سلامتی کونسل میں مشرقی وسطیٰ کی صورتحال پر فلسطینی مسئلے پر بیان میں کہا کہ اسرائیل غزہ میں جو کچھ کر رہا ہے وہ جنگ نہیں، بے دخلی ، نسلی صفایا اور تباہی کی مہم ہے، شہریوں پر اندھا دھند بمباری اوربنیادی ڈھانچے کی منظم تباہی الگ تھلگ واقعات نہیں، یہ سوچے سمجھے اقدامات ہیں جن کا مقصد ایک پوری قوم کو ان کے وطن سے مٹانا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : اسرائیلی فورسز کی غزہ پر بمباری، 2 دن میں 150 فلسطینی شہید
عاصم افتخار نے کہا کہ عالمی برادری یو این چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کے دفاع کیلئے متحد ہو، تاریخ کے ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑے ہیں، کیا یہ کونسل اپنی ذمے داری نبھائے گی یا المیے سے منہ موڑ لے گی؟ فلسطینی عوام اس کونسل سے امید، انصاف اور امن کے وعدے کی توقع رکھتے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں ان کو مایوس نہیں کرنا چاہئے، غزہ میں خونریزی ختم ہونی چاہئے، سلامتی کونسل اجلاس میں پاکستان نے فلسطین کو اقوام متحدہ کی مکمل رکینت دینے کا مطالبہ دہرایا۔
پاکستانی مندوب کا کہنا تھا کہ فلسطینی رکنیت اخلاقی ضرورت ہے جو دو ریاستی حل کی ناقابل واپسی ضمانت ہوگی۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں