اسرائیل کو سعودی عرب اور امریکا کی ایف-35 طیاروں کی ڈیل پر اعتراض

امریکا اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والی جدید ایف-35 لڑاکا طیاروں کی فروخت کی ممکنہ ڈیل پر اسرائیل کی جانب سے سخت مخالفت سامنے آرہی ہے۔ دوسری جانب سعودی ولی عہد محمد بن سلمان آج امریکا پہنچ رہے ہیں جہاں انکی اہم ملاقاتیں شیڈول ہیں جس میں سعودی عرب اور امریکا کے درمیان مختلف شعبوں میں معاہدے متوقع ہیں۔**

ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق اسرائیلی کی دفاعی افواج نے اتوار کے روز ایک باضابطہ پوزیشن پیپر سیاسی قیادت کو پیش کیا جس میں اسرائیلی فضائیہ نے امریکا کی جانب سے سعودی عرب کو ایف-35 اسٹیلتھ فائٹر جیٹس فروخت کرنے کے منصوبے کی کھلی مخالفت کی، جس کی خود فوج نے بھی تصدیق کی ہے۔

دستاویز کے مطابق دیگر ممالک کے پاس جدید اسٹیلتھ ٹیکنالوجی کے حامل طیاروں کی موجودگی سے خطے میں اسرائیل کی فضائی برتری متاثر ہو سکتی ہے۔

اسرائیل ماضی میں بھی اس خدشے کا اظہار کر چکا ہے اور خطے میں اپنی معیاری فوجی برتری برقرار رکھنے کے لیے کوشاں ہے۔ ماضی میں بھی اسرائیل نے ترکیہ اور متحدہ عرب امارات سمیت دیگر ممالک کو ایف-35 طیاروں کی فروخت رکوانے کی کوشش کی تھی۔

فی الحال اسرائیل مشرقِ وسطیٰ کا واحد ملک ہے جس کے پاس ایف-35 طیارے موجود ہیں۔ اسرائیلی فضائیہ 45 طیارے استعمال کر رہی ہے جبکہ مزید 30 طیاروں کا آرڈر بھی دیا جا چکا ہے۔

گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ واشنگٹن سعودی عرب کو ایف-35 طیارے فروخت کرے گا۔ اگر یہ سودا طے بھی ہو جائے تو طیاروں کی پہلی کھیپ کی ترسیل میں کم از کم سات سال لگنے کا امکان ہے۔

دوسری جانب سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان آج امریکا پہنچ رہے ہیں جہاں انکا پرتپاک استقبال متوقع ہے۔

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اوول آفس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے، جس کے بعد وہ دیگر تقریبات میں بھی شریک ہوں گے۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے