شمالی غزہ میں قحط کی باضابطہ تصدیق، آدھی سے زیادہ آبادی شدید متاثر
دنیا کی سب سے بڑی بھوک پر نظر رکھنے والی تنظیم انٹیگریٹڈ فوڈ سکیورٹی فیز کلاسیفیکیشن (IPC) نے جمعہ کے روز شمالی غزہ، بشمول غزہ شہر، میں قحط کی باضابطہ تصدیق کر دی۔
اس اعلان کے مطابق علاقے کی آدھی سے زیادہ آبادی یعنی تقریباً 5 لاکھ 14 ہزار افراد—شدید غذائی قلت کا شکار ہیں۔ یہ تعداد ستمبر کے آخر تک بڑھ کر 6 لاکھ 41 ہزار تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔
IPC کے مطابق قحط اس وقت قرار دیا جاتا ہے جب:کم از کم 20 فیصد گھرانے کھانے کی شدید کمی کا شکار ہوں،30 فیصد بچے شدید غذائی قلت میں مبتلا ہوں،اور بھوک سے مرنے والوں کی یومیہ شرح ہر 10 ہزار میں 2 بالغ یا 4 بچے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ غزہ میں براہِ راست ڈیٹا جمع کرنا ممکن نہ ہونے کے باعث متبادل پیمانہ استعمال کیا گیا۔ اس کے تحت بچوں کی اوپری بازو کی گولائی سے غذائی قلت کا اندازہ لگایا گیا، جس نے شدید بحران کی تصدیق کی۔
IPC نے خبردار کیا کہ اگر انسانی بنیادوں پر امدادی اقدامات نہ بڑھے تو موجودہ ’ہولناک حالات‘ جنوب کی طرف دیر البلح اور خان یونس تک پھیل سکتے ہیں۔وقت تیزی سے گزر رہا ہے۔ فوری جنگ بندی اور رکاوٹ سے پاک بڑے پیمانے پر امدادی رسائی ناگزیر ہے۔‘
یہ اعلان گزشتہ 2 دہائیوں میں IPC کی جانب سے صرف چوتھی مرتبہ کیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ، عالمی ادارہ خوراک اور عالمی ادارہ صحت نے پہلے ہی اس فیصلے کی پیش گوئی کی تھی۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا:’یہ قحط کوئی قدرتی آفت نہیں بلکہ انسانوں کے ہاتھوں بنائی گئی تباہی ہے، ایک اخلاقی ناکامی۔ لوگ بھوکے مر رہے ہیں، بچے دم توڑ رہے ہیں، اور وہ لوگ جو مدد کر سکتے ہیں، خاموش ہیں۔‘
عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس نے کہا:’جنگ بندی فوری ضرورت ہی نہیں بلکہ اخلاقی فرض ہے۔ دنیا بہت دیر تک دیکھتی رہی، اور اب یہ قحط معصوم جانیں نگل رہا ہے۔‘
اسرائیل نے قحط کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے اسے ’جعلی اور جانبدارانہ‘ قرار دیا۔ اسرائیلی وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ رپورٹ ’حماس کے پروپیگنڈے‘ کو تقویت دینے کے لیے تیار کی گئی۔
امریکا کے سفیر برائے اسرائیل مائیک ہکابی نے بھی اس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ:دہشتگرد اپنے ذخیرہ شدہ کھانے عام شہریوں اور خاص طور پر یرغمالیوں میں بانٹ سکتے ہیں۔‘
تاہم، ورلڈ پیس فاؤنڈیشن نے بی بی سی کو بتایا کہ IPC نے جو طریقہ کار استعمال کیا وہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہے اور کسی قسم کی ‘نئی یا کمزور شرط‘ نہیں اپنائی گئی۔فاؤنڈیشن کے سربراہ ایلیکس ڈی وال نے کہا:’اسرائیل انسانی بنیادوں پر ڈیٹا اکٹھا کرنے کی اجازت نہیں دیتا اور پھر شواہد کی کمی پر تنقید کرتا ہے۔‘
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں