یوکرین کا امریکی میزائلوں سے روس پر حملہ
یوکرین نے پہلی بار امریکی ATACMS میزائل استعمال کرتے ہوئے روس کے علاقے برائنکس پر حملہ کیا ۔ جنگ کے ہزارویں دن یوکرینی حملے کو روس نے سنگین قرار دیا ۔ ماسکو کے مطابق، چھ میزائل داغے گئے جن میں سے پانچ کو تباہ کر دیا گیا جبکہ ایک کے ملبے سے فوجی تنصیبات کو معمولی نقصان پہنچا۔
یوکرینی حکام نے تصدیق کی کہ حملے میں روس کے اندر 110 کلومیٹر کے فاصلے پر ایک اسلحہ ڈپو کو نشانہ بنایا گیا، تاہم یوکرینی حکام نے حملے میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں کی تصدیق نہیں کی۔ امریکی صدر جو بائیڈن نے حال ہی میں یوکرین کو ان میزائلوں کے استعمال کی منظوری دی تھی، جس پر روس نے سخت ردعمل دیتے ہوئے امریکا کو جنگ میں براہ راست فریق قرار دیا ۔
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے امریکی میزائلوں کے استعمال کو مغرب کی جانب سے تنازع بڑھانے کی کوشش قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی مدد کے بغیر ان ہائی ٹیک میزائلوں کا استعمال ممکن نہیں، جیسا کہ صدر پیوٹن نے بارہا کہا ہے۔یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے پارلیمنٹ سے خطاب میں کہا کہ جنگ کا فیصلہ کن وقت قریب ہے۔ یہ وقت طے کرے گا کہ ہم دشمن پر غالب آئیں گے یا دشمن ہم پر۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں