آزاد کشمیر ، قانون ساز اسمبلی کا اجلاس بلانے کی پی ٹی آئی کی ریکوزیشن مسترد

آزاد کشمیر ،پی ٹی آئی کی ریکوزیشن مسترد، قانون ساز اسمبلی کا اجلاس بلانے کی درخواست ناقابل قبول قرار۔ اجلاس بلانے کی ریکوزیش مسترد کرنے کا نوٹیفکیشن اسمبلی سیکریٹریٹ نے جاری کر دیا۔
اپوزیشن لیڈر خواجہ فاروق کی جانب سے دی گئی ریکوزیشن 19 دسمبر کو پیش کی گئی تھی۔پی ٹی آئی کی ریکوزیش پر ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے صدور نے بھی دستخط کئے تھے ۔
اسمبلی سیکرٹریٹ کے مطابق ریکوزیشن پر دو دو اراکین کے الگ الگ فوٹو اسٹیٹ کاغذوں پر دستخط کیے گئےاورصرف دو اراکین اسمبلی کے اصل دستخط ریکوزیشن پر موجود ہیں جبکہ قانون کے مطابق ریکوزیشن پر تمام اراکین کے اصل دستخط ہونا ضروری ہیں۔
آرٹیکل 27(4) کے مطابق ریکوزیشن پر اسمبلی کے ایک چوتھائی ارکان کے دستخط لازمی ہیں جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے 7ممبران اسمبلی اور پاکستان پیپلزپارٹی کے دو اور مسلم لیگ کے دو ممبران اسمبلی نے اس پردستخط کئے۔ اس طرح کل گیارہ ممبران اسمبلی کی ریکوزیشن جمع ہوئی ہے جبکہ قواعد انضباط کار قانون ساز اسمبلی کے مطابق اسمبلی ریکوزیشن جمع کروانے کیلئے کم از کم ایک تہائی ممبران کا ہونا ضروری ہے اور 53کے ایوان میں اس کی تعداد 14بنتی ہے ۔
ریکوزیشن مستردہونے کا نوٹیفکیشن سیکرٹری قانون ساز اسمبلی چوہدری بشارت حسین کے دستخط سے جاری ہوا۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے