پاکستانی میڈیا میں انقلاب لانے والا منصوبہ، ڈی ٹی ایچ ایک بار پھر تاخیر کا شکار
ڈائریکٹر جنرل پاکستان الیکٹرانکس میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی پیمرا ڈی ٹی ایچ راحت علی نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ پانچ سال پہلے ڈی ٹی ایچ ٹیکنالوجی کے تین لائسنس پیمرا نے ایوارڈ کئے تھے جن میں سے ایک کمپنی شہباز سکائی نے لائسنس حاصل کرنے کے بعد تا حال اپنی سروس شروع نہیں کی ۔ کمپنی نے موقف اختیار کیا کہ سپارکو پاکستان کے ساتھ مذاکرات چل رہے ہیں جو مکمل نہیں ہوئے جس سے کمپنی گزشتہ کئی سالوں سے مختلف حربے اختیار کر کے سروس شروع نہیں کر رہی ۔
دوسری طرف پیمرا کے فیصلے کے بعد چوتھے اور پانچویں نمبر پر آنے والی دو مزید کمپنیوں کو ڈی ٹی ایچ کے لائسنس آفر کئے گئے ہیں جس میں پی ٹی سی ایل اور سردار گروپ آف کمپنیز بھی شامل ہے ۔ ان دونوں کمپنیز نے ایک ماہ کی مہلت مانگی ہے ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اب ان دونوں کمپنیز کے جواب کا انتظارہے۔ جب کہ نئے لائسنسز دینے کے حوالے سے پیمرا اتھارٹی نامکمل ہے جس سے یہ معاملہ ایک بار تاخیر کا شکار ہو گیا ہے۔
واضح رہے اس وقت پاکستان میں بھارت کی چھ کمپنیاں ڈی ٹی ایچ سیٹ باکس سروسز فرام کر ر ہی ہیں جس سے ہر ماہ لاکھوں ڈاکرز براستہ سنگاپور بھارت جا رہے ہیں ۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں