پی ٹی آئی کا احتجاج قیادت کے اعلان کے بغیرہی ختم ،قافلے واپس
احتجاج کا خاتمہ
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا احتجاج بغیر قیادت کے اعلان کے ختم ہو گیا، جس کے بعد پارٹی کے ورکرز ڈی چوک اور بلیو ایریا کے قریب منتشر ہو گئے۔
قیادت کی خاموشی
ذرائع کے مطابق، علی امین گنڈاپور کی روانگی کے بعد پارٹی قیادت نے کوئی واضح لائحہ عمل فراہم نہیں کیا، جس کی وجہ سے کارکنان کی قیادت کے لئے کوئی رہنما موجود نہیں تھا۔
موبائل بند ہونے کی صورت حال
علی امین گنڈاپور کے موبائل بند ہونے سے ورکرز کے لیے قیادت کی عدم موجودگی محسوس کی گئی۔ اعظم سواتی سمیت مرکزی قیادت نے بھی ورکرز کو کسی نئے لائحہ عمل سے آگاہ نہیں کیا۔
بارش اور مزاحمت
احتجاج کے دوران بارش کے باوجود پارٹی ورکرز نے مزاحمت کی، لیکن بعد میں منتشر ہو گئے۔
علی امین کا واپسی کا فیصلہ
علی امین گنڈاپور نے خیبرپختونخوا ہاؤس میں رکنے کی بجائے پشاور واپسی کا فیصلہ کیا، اور وہ رینجرز اور پولیس آپریشن سے قبل ہی وہاں سے روانہ ہو چکے تھے۔
گرفتاری کی خبر
پی ٹی آئی قیادت نے علی امین گنڈاپور کی گرفتاری کی خبر چلائی، حالانکہ وہ اس وقت خفیہ مقام پر ملاقات کر رہے تھے۔
ملاقات اور مستقبل کے منصوبے
علی امین نے پارٹی کی مرکزی قیادت کے بجائے اعظم سواتی کو احتجاج سے متعلق منصوبوں کے بارے میں آگاہ کیا۔ انہوں نے اگلے چند گھنٹوں میں آرام کرنے کا ارادہ ظاہر کیا اور پیر سے سرکاری کاموں کو دوبارہ شروع کرنے کا پروگرام بنایا۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں