ٹیکس وصولی میں کمی پر آئی ایم ایف تشویش کا اظہار، ہنگامی اقدامات کی تجویز

اسلام آباد: عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان میں ٹیکس ریونیو کی وصولی میں کمی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شارٹ فال پورا کرنے کے لیے ہنگامی ٹیکس اقدامات کی تجویز دے دی ہے۔ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے اکتوبر کے دوران 129 ارب روپے جبکہ چار ماہ میں مجموعی طور پر 96 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال پر تحفظات ظاہر کیے ہیں۔ عالمی مالیاتی ادارے نے رواں مالی سال کے لیے 15 ہزار 264 ارب روپے کا سالانہ ٹیکس وصولی کا ہدف پورا کرنے پر زور دیتے ہوئے موجودہ ٹیکس محاصل کو ناکافی قرار دیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے پاکستان سے ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح میں اضافے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ ایف بی آر ذرائع کے مطابق اگر ٹیکس وصولی میں کمی کا سلسلہ جاری رہا اور شارٹ فال میں مزید اضافہ ہوا تو عوام پر نئے ٹیکس عائد کرنے یا سرکاری اخراجات میں کٹوتی کے آپشنز زیر غور آسکتے ہیں۔ذرائع کے مطابق آئندہ اقتصادی جائزوں میں ٹیکس وصولی سے متعلق شرائط مزید سخت ہونے کا امکان ہے، جبکہ مقررہ اہداف حاصل نہ ہونے کی صورت میں ہنگامی ٹیکس اقدامات پر بات چیت کی جائے گی۔آئی ایم ایف نے وفاقی اور صوبائی سطح پر جنرل سیلز ٹیکس کی وصولی بڑھانے کو بھی ضروری قرار دیا ہے۔ عالمی مالیاتی ادارہ اگلے مالی سال کے لیے ریونیو سے متعلق شرائط مزید سخت کرسکتا ہے، جبکہ نئے بجٹ سے قبل ریٹیل، ہول سیل اور زرعی شعبے سے ٹیکس وصولی میں بہتری لانے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے پروفیشنلز سمیت ٹیکس نیٹ سے باہر موجود تمام شعبوں کو ٹیکس دائرے میں لانے پر بھی زور دیا ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے کے 7 ارب ڈالر کے قرض پروگرام کے تحت طے شدہ شرائط پر عمل درآمد پاکستان کے لیے لازمی ہے۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے