حکومت اور پی ٹی آئی مذاکرات کا دوسرا دور، اہم فیصلوں کا امکان
اسلام آباد: حکومت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے درمیان لانگ مارچ اور خیبرپختونخوا کی مجموعی صورتحال پر مذاکرات کا دوسرا دور اسپیکر قومی اسمبلی کے چیمبر میں شروع ہونے والا ہے، جس میں اہم امور پر پیش رفت اور فیصلوں کا امکان ہے۔مذاکرات اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی میزبانی میں ہو رہے ہیں۔ مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور اپوزیشن کے وفود مذاکرات میں شریک ہیں، جبکہ حکومتی ٹیم میں وفاقی وزیر امیر مقام، سینیٹر شیری رحمان، محسن نقوی، طلال چوہدری، رانا ثنا اللہ، نوید قمر اور اعجاز جکھرانی شامل ہیں۔پی ٹی آئی کی جانب سے سلمان اکرم راجا اور عامر ڈوگر مذاکرات میں شریک ہوں گے۔مذاکرات سے قبل سلمان اکرم راجا نے کہا کہ آج کا دن پاکستانی قوم کے لیے اہم ہے، ہم عقل کی بات کرنے اور قوم کا اعتماد لے کر آئے ہیں۔ ان کے مطابق عوام بانی پی ٹی آئی کی رہائی دیکھنا چاہتی ہے، جبکہ پی ٹی آئی اسیران کی رہائی اور آئین و انصاف کی بحالی کا مطالبہ کر رہی ہے۔سلمان اکرم راجا نے کہا کہ اگر حکومت مطالبات تسلیم نہیں کرتی تو پی ٹی آئی پاکستانی قوم کے ساتھ کھڑی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ بنیادی مطالبات گزشتہ روز بھی حکومت کے سامنے رکھے گئے تھے اور آج بھی پیش کیے جائیں گے، جبکہ ان کا بنیادی مطالبہ بانی پی ٹی آئی تک رسائی ہے۔انہوں نے مذاکراتی کمیٹی کے بعض ارکان پر غیر ذمہ داری کا الزام بھی عائد کیا اور کہا کہ کچھ اراکین نے مذاکرات کے دوران اپنا یکطرفہ مؤقف میڈیا کے سامنے پیش کیا۔دوسری جانب ذرائع کے مطابق حکومت نے واضح کیا ہے کہ احتجاج اور انتشار کے ذریعے رعایتیں نہیں ملیں گی، اگر کسی قسم کی رعایت درکار ہے تو سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر اپوزیشن کی جانب سے ہٹ دھرمی جاری رہی تو آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت اقدامات کیے جاسکتے ہیں۔حکومتی رہنما طارق فضل چوہدری نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ حکومت اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کو بامقصد اور نتیجہ خیز بنانا چاہتی ہے، تاہم وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے بیانات مذاکراتی عمل کو متاثر کرسکتے ہیں۔انہوں نے تحریک انصاف کی قیادت پر زور دیا کہ مذاکرات کے حتمی مرحلے تک ایسی گفتگو سے گریز کیا جائے جس سے عمل کو نقصان پہنچے۔ادھر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے اعلان کیا ہے کہ پی ٹی آئی کا لانگ مارچ 4 اکتوبر کو لکی مروت کے گنڈی چوک سے اسلام آباد کے لیے روانہ ہوگا اور وہ خود قافلے کی قیادت کریں گے۔سہیل آفریدی نے کارکنوں سے احتجاج میں بھرپور تیاری کے ساتھ شرکت کی اپیل کی ہے۔ اعلان کردہ شیڈول کے مطابق مارچ کا پہلا پڑاؤ کرک ہوگا، جس کے بعد قافلہ کوہاٹ پہنچے گا۔حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان گزشتہ روز ہونے والے مذاکرات کے پہلے دور میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال، قومی امور اور خیبرپختونخوا کی صورتحال سمیت مختلف معاملات پر تبادلہ خیال ہوا تھا۔ فریقین نے مذاکراتی عمل جاری رکھنے پر اتفاق کیا تھا، جبکہ دوسرا دور آج اسپیکر چیمبر میں رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ذرائع کے مطابق پہلے دور میں حکومتی ٹیم نے واضح کیا تھا کہ اسلام آباد کی جانب مارچ کی اجازت نہیں دی جائے گی، جبکہ حکومت نے پی ٹی آئی سے لانگ مارچ ملتوی یا منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔مذاکرات میں پی ٹی آئی کی جانب سے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات، ان کی بہنوں کی نظر بندی ختم کرنے اور ان کے علاج سے متعلق عدالتی فیصلے پر عمل درآمد سمیت دیگر مطالبات بھی سامنے رکھے گئے تھے۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں