حکومت کا پیٹرول سبسڈی پروگرام شروع، موٹر سائیکل اور رکشے پر 100 روپے فی لیٹر ریلیف
وفاقی وزراء شزہ فاطمہ خواجہ، علی پرویز ملک اور عطاء اللہ تارڑ نے اعلان کیا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے خطے میں بڑھتی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے اثرات سے عوام کو بچانے کے لیے ٹارگٹڈ پیٹرول سبسڈی پروگرام شروع کردیا ہے۔وفاقی وزیر شزہ فاطمہ خواجہ کے مطابق 800 سی سی سے کم گاڑی رکھنے والے افراد کو ماہانہ 30 لیٹر جبکہ موٹر سائیکل اور رکشہ مالکان کو 20 لیٹر پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر سبسڈی دی جائے گی۔ تاہم 15 سال سے پرانی موٹر سائیکل اور 20 سال سے پرانی گاڑی رکھنے والے افراد اس پروگرام کے اہل نہیں ہوں گے۔ اسلام آباد میں اسکیم کا آغاز آج رات 12 بجے سے کیا جا رہا ہے، جبکہ ایک دن کے اندر پورے ملک میں اس کا شفاف نظام فعال کرنے کا منصوبہ ہے۔پیٹرول سبسڈی لینے کا طریقہشزہ فاطمہ نے بتایا کہ سبسڈی پروگرام دو مراحل پر مشتمل ہے۔ پہلے مرحلے میں شہریوں کو اپنی رجسٹریشن کرانا ہوگی۔ وزیراعظم سبسڈی پروگرام سے استفادہ کرنے کے لیے 9771 پر پیغام بھیجنا ہوگا، جس میں شناختی کارڈ نمبر، گاڑی کا نمبر، صوبے کے نام کا پہلا حرف اور گاڑی کی رجسٹریشن کی تاریخ درج کرنا ہوگی۔دوسرے مرحلے میں پیٹرول حاصل کرنے کے لیے شہریوں کو TOK لکھ کر 9771 پر بھیجنا ہوگا۔ پیٹرول پمپ پر ٹوکن دکھانے کے بعد انہیں سبسڈی کے مطابق پیٹرول فراہم کیا جائے گا۔ موٹر سائیکل کے لیے 20 لیٹر پر مجموعی طور پر 2 ہزار روپے جبکہ گاڑی کے لیے ہر 10 لیٹر پر ایک ہزار روپے کی رعایت دی جائے گی۔وفاقی وزیر نے شہریوں کو فراڈ سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کسی بھی شخص سے میسج، فون کال یا واٹس ایپ کے ذریعے ٹوکن نمبر نہیں مانگے گی، اس لیے کسی کو بھی اپنا ٹوکن نمبر فراہم نہ کیا جائے۔کمزور طبقے کو ریلیف دینے کی کوششوفاقی وزیر علی پرویز ملک نے شزہ فاطمہ اور عطاء اللہ تارڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس میں کہا کہ یہ اسکیم معاشرے کے کمزور ترین طبقے کو موجودہ بحران میں ریلیف فراہم کرنے کے لیے بنائی گئی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان اپنی توانائی کی تقریباً 90 فیصد ضروریات درآمد کرتا ہے، اس لیے حکومت کو وسائل دیکھتے ہوئے عوام کو ممکنہ حد تک تحفظ دینا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے اس سے قبل بھی وسائل کا انتظام کرنے کے بعد سبسڈی کا اعلان کیا تھا۔ حکومت نے 130 ارب روپے کی سبسڈی کے ذریعے عوام کو عالمی سطح پر بڑھتی توانائی کی قیمتوں کے اثرات سے بچانے کی کوشش کی۔ وزیراعظم نے تمام صوبوں سے رابطہ کیا اور وزیر خزانہ سمیت متعلقہ حکام کو اضافی وسائل اکٹھے کرنے کی ہدایت کی۔علی پرویز ملک کے مطابق حکومت نے تمام وزرائے اعلیٰ سے مشاورت کی، جبکہ صدر آصف علی زرداری نے بھی وزرائے اعلیٰ کو اکٹھا کرکے ٹارگٹڈ ریلیف کا نظام ترتیب دینے میں کردار ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یکم مارچ سے 30 جون تک جاری رہنے والے اس ریلیف نظام کی مثال دنیا کی تاریخ میں نہیں ملتی۔انہوں نے بتایا کہ اس عرصے کے دوران ڈیزل کی عالمی قیمت 90 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 280 سے 290 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی، جبکہ خام تیل کی قیمت 70 ڈالر سے بڑھ کر 170 ڈالر فی بیرل اور پیٹرول کی قیمت 76 ڈالر سے بڑھ کر 135 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی۔پیٹرول پمپ مالکان کے لیے بھی حکومتی انتظامعلی پرویز ملک نے کہا کہ حکومت نے تمام دستیاب وسائل استعمال کرتے ہوئے عوام کو عالمی بحران کے اثرات سے بچانے کی کوشش کی۔ نجی شعبے کی ریفائنریوں نے بھی حکومت کے ساتھ تعاون کیا اور ریفائنڈ مصنوعات کے فارمولے کو خام تیل کے فارمولے سے منسلک کیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ باب المندب میں کسی نئے بحران کی صورت میں بھی حکومت کی کوشش ہوگی کہ ملک میں تیل کی دستیابی یقینی بنائی جائے اور اضافی بوجھ مل کر برداشت کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے فیصلہ کیا ہے کہ کمزور ترین طبقے کو ہر ماہ لیوی سے بڑھ کر 100 روپے فی لیٹر ریلیف دیا جائے، کیونکہ تنخواہ دار طبقہ بھی مہنگائی کے موجودہ دور میں مشکل حالات سے گزر رہا ہے۔علی پرویز ملک کے مطابق شہری گھر بیٹھے رجسٹریشن کے بعد ٹوکن حاصل کریں گے اور کسی بھی پیٹرول پمپ سے کم قیمت پر ایندھن حاصل کرسکیں گے۔ حکومت عالمی منڈی میں دگنی قیمت پر ایندھن خرید رہی ہے، تاہم وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ جیسے ہی عالمی منڈی میں قیمتیں کم ہونا شروع ہوں، اس کمی کا فائدہ بھی شفاف انداز میں عوام تک منتقل کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں ابتدائی طور پر 150 پیٹرول پمپس پر اسکیم شروع کی جارہی ہے اور ایک دن کے اندر پورے پاکستان میں اس کا شفاف نظام فعال کردیا جائے گا۔ کسی پیٹرول پمپ پر مسئلہ پیش آنے کی صورت میں شکایت کا فوری ازالہ کیا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ سبسڈی کی رقم گردشی قرضے کی شکل میں سسٹم میں نہیں رکھی جائے گی بلکہ اسٹیٹ بینک اور وزارت خزانہ کی معاونت سے پیٹرول پمپس کو بروقت وسائل فراہم کیے جائیں گے۔ پیٹرول پمپس کے اکاؤنٹس کی تمام تفصیلات بھی حاصل کرلی گئی ہیں۔ریفائنریوں میں 5 سے 6 ارب ڈالر کی سرمایہ کاریعلی پرویز ملک نے بتایا کہ حکومت نے ریفائنریوں کے ساتھ معاہدے کی منظوری دے دی ہے اور یکم اکتوبر تک ریفائنری کے شعبے میں 5 سے 6 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔ اس سرمایہ کاری کے بعد ریفائنریاں خام تیل کو مزید مؤثر انداز میں پراسیس کرنے کے قابل ہوں گی۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم تمام معاملات کی خود نگرانی کررہے ہیں اور حکومت آئی ایم ایف پروگرام میں رہتے ہوئے بھی کمزور طبقے کو تحفظ فراہم کرنے کی کوشش کررہی ہے۔وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ حکومت خطے میں جاری بحران کی سنگینی سے پوری طرح آگاہ ہے اور وزیراعظم، نائب وزیراعظم اور فیلڈ مارشل مستقل جنگ بندی کی کوششوں کے لیے دن رات کام کررہے ہیں۔ ان کے مطابق خطے کے بحران کا مستقل حل جنگ بندی اور امن کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں