دہشت گردوں سے بات چیت کی کوئی گنجائش نہیں، انہیں ہتھیار ڈالنے ہوں گے، ڈی جی آئی ایس پی آر

اسلام آباد: ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا ہے کہ دہشت گردوں سے مذاکرات کی کوئی گنجائش نہیں، انہیں ریاست کے سامنے ہتھیار ڈالنا ہوں گے، بصورت دیگر ان کے خلاف بھرپور کارروائی جاری رہے گی۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کو واضح پیغام دیا جا چکا ہے کہ ان کے ساتھ کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض عناصر بلوچستان کے حالات خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم ان کے عزائم کامیاب نہیں ہوں گے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ لاپتا افراد کے نام پر پھیلایا جانے والا پروپیگنڈا حقیقت پر مبنی نہیں، کیونکہ متعدد لاپتا افراد دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث یا سکیورٹی فورسز کے آپریشنز میں ہلاک ہونے والوں میں شامل پائے گئے۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ پانچ برسوں میں ملک بھر میں 40 ہزار 348 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے، جن میں 2 ہزار 84 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ رواں سال دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں 303 فوجی جوان اور 322 شہری شہید ہو چکے ہیں۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے الزام عائد کیا کہ بعض دہشت گرد گروہوں کو افغانستان سے معاونت حاصل ہے، جبکہ بھارت میں موجود ان کے ہینڈلرز بھی انہیں سپورٹ کر رہے ہیں۔بلوچستان سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صوبے کے مسائل کا تعلق وہاں کے مخصوص سرداروں اور اشرافیہ سے ہے، جو عوامی ترقی، تعلیم اور بہتر طرزِ حکمرانی کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک آئینی ریاست ہے، جہاں قانون سب کے لیے برابر ہے، جبکہ گڈ گورننس، قومی استحکام اور سکیورٹی کے لیے ناگزیر ہے۔کشمیر کے حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ "کشمیر پاکستان کی شہ رگ تھا، ہے اور رہے گا، اور ہماری آنے والی نسلیں بھی یہی مؤقف رکھیں گی۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے