عراق میں مبینہ فضائی حملے، 20 اہلکار ہلاک، سیکیورٹی صورتحال کشیدہ
بغداد: عراق میں بدھ کے روز مبینہ طور پر امریکا اور سعودی عرب سے منسوب فضائی حملوں کے بعد سیکیورٹی صورتحال کشیدہ ہو گئی۔ عراقی پاپولر موبلائزیشن فورسز (PMF)** نے دعویٰ کیا ہے کہ حملوں میں کم از کم 20 اہلکار ہلاک اور 32 زخمی ہوئے ہیں۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پی ایم ایف، جو مختلف سابق نیم فوجی گروپوں پر مشتمل اتحاد ہے اور اب عراقی مسلح افواج کا حصہ ہے، نے اپنے بیان میں کہا کہ اس کے سات مختلف صوبوں میں قائم اڈوں کو نشانہ بنایا گیا۔تنظیم کے مطابق ابتدائی اطلاعات کے تحت حملوں میں 20 اہلکار جان کی بازی ہار گئے جبکہ 32 زخمیوں کو مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ پی ایم ایف نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔دوسری جانب عراقی وزیراعظم **علی فالح الزیدی** نے صورتحال کا فوری نوٹس لیتے ہوئے قومی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا۔ عراقی سیکیورٹی میڈیا سیل کے مطابق اجلاس حالیہ فضائی حملوں اور ملک کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے بلایا گیا، جبکہ اجلاس کے بعد تفصیلی اعلامیہ جاری کرنے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔تاحال امریکا یا سعودی عرب کی جانب سے ان حملوں کے حوالے سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ آزاد ذرائع سے بھی ان حملوں کی مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔دفاعی اور سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر عراق میں اس نوعیت کی کارروائیاں جاری رہیں تو پورے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے، جس کے اثرات علاقائی سلامتی اور سفارتی تعلقات پر بھی مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں