پاک امریکا ڈیجیٹل شراکت داری کی نئی راہ ہموار
واشنگٹن میں پاکستان کے وزیر مملکت برائے کرپٹو اور بلاک چین، بلال بن ثاقب اور سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ڈیجیٹل اثاثوں سے متعلق کونسل آف ایڈوائزرز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر بو ہائنس کی اہم ملاقات ہوئی، جسے دونوں ممالک کے درمیان ڈیجیٹل شراکت داری کا نیا باب قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب امریکا نے اپنے ڈیجیٹل اثاثہ جات کے فریم ورک کا اعلان کیا، جسے عالمی سطح پر ضابطہ سازی کی سمت ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔پاکستان اور امریکا کی اس صف بندی کو نہ صرف تجارتی بلکہ کرپٹو قانون سازی میں بھی ایک نئے دور کا آغاز سمجھا جا رہا ہے۔
بلال بن ثاقب نے دورے کے دوران سینیٹر سنتھیا لومیس، ٹم شیہی، رِک سکاٹ، نیویارک سٹی کے میئر ایرک ایڈمز سمیت دیگر اہم قانون سازوں سے بھی ملاقاتیں کیں۔
بلال بن ثاقب پاکستان کرپٹو کونسل (PCC) کے سربراہ بھی ہیں، جو ملک میں ورچوئل اثاثوں کے ریگولیٹری ڈھانچے کی تشکیل اور قومی کرپٹو حکمت عملی کی رہنمائی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
ملاقات میں عالمی سطح پر کرپٹو پالیسیوں میں ہم آہنگی، اور پاکستان کو ویب 3 ٹیکنالوجی کا علاقائی مرکز بنانے جیسے اہم نکات پر گفتگو ہوئی۔اس موقع پر بلال بن ثاقب نے پاکستان میں ڈیجیٹل اثاثوں کے لیے جاری کوششوں اور بلاک چین کے انضمام پر روشنی ڈالی۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں