خیبرپختونخوا میں بھرتیاں میرٹ نہیں تعلقات پر ہوتی ہیں، گیلپ سروے

گیلپ  پاکستان  نے  خیبرپختونخوا کے حوالے سے  نیا سروے  جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کے73 فیصد شہریوں کی رائے ہے کہ سرکاری اداروں میں بھرتیاں میرٹ کی بجائے ذاتی تعلقات پر ہوتی ہیں ۔

 گیلپ پاکستان کے سروے میں خیبرپختونخوا کے شہریوں نے ترقیاتی فنڈز، طبی سہولیات اور نوکریاں میرٹ پر نہ دینےکی شکایت کی ہے۔

سروے میں 73فیصد نےکہا کہ خیبرپختونخوا میں سرکاری دفاتر میں بھرتیا ں میرٹ پر نہیں ذاتی تعلقات پر ہوتی ہیں، البتہ 21 فیصد نے الزام کو  ردکردیا اور نوکریاں میرٹ پر دینےکا کہا۔

52 فیصد نے پی ٹی آئی حکومت پر ترقیاتی فنڈز پسند نا پسند  یا صرف جیتےگئے حلقوں میں تقسیم کا بھی الزام عائد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت صرف ان علاقوں کو فنڈ دیتی ہے جہاں سے اس کے ارکان کامیاب ہوئے۔

فنڈز کی تقسیم منصفانہ طور پر نہ کرنے کی شکایت پی ٹی آئی کے اپنے 44 فیصد  ووٹرز  نےکی۔

اے این پی کے80 فیصد، ن لیگ کے 66 فیصد جب کہ  جے یوئی آئی ف کے 58 فیصد ووٹرز نے ترقیاتی فنڈ کی تقسیم منصفانہ نہ ہونےکا کہا۔

سروے میں 49 فیصد نے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا پر تعلیم ، صحت اور دیگر خدمات اپنے علاقے میں زیادہ دینے کا  الزام عائدکیا لیکن 38 فیصد نے کہا کہ  خدمات تمام علاقوں میں برابر تقسیم ہوتی ہیں۔

گیلپ پاکستان کے سروے میں 66 فیصد افراد  اپنے ارکان صوبائی اسمبلی سے ناراض نظر آئے اور  انتخابی وعدے پورے نہ کرنے کا کہا، وعدے پورےنہ کرنے کی شکایت پی ٹی آئی کے 57 فیصد ووٹرز  نے بھی کی،64 فیصد نے اپنے ایم پی ایز کی جانب سے مسائل کے حل لیے حلقے میں نہ آنےکا بھی شکوہ کیا۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے