کراچی: رہائشی عمارت گرنے سے جاں بحق افراد کی تعداد16 ہوگئی

لیاری کے علاقے بغدادی میں جمعہ کی صبح زمین بوس ہونے والی پانچ منزلہ عمارت کے نیچے دب کر جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد 16 ہوگئی ہے جبکہ 15 سے زیادہ افراد اب بھی زخمی ہیں۔

ریسکیو حکام کا کہنا ہےکہ عمارت گرنے کے بعد سے امدادی کارروائیاں جاری ہیں  عمارت کے ملبے تلے مزید افراد کے دبے ہونے کا خدشہ ہے جن کو ملبے نکالنے کی کوششیں جاری ہیں  تاہم  موبائل سگنل بند ہونے سے ریسکیو سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔

میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے لیاری میں عمارت گرنے کے مقام کا دورہ کیا، میئر کراچی نے کہا کہ عمارت گرنے سے 16 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ 15 افراد اب بھی زخمی ہیں ۔

دوسری جانب وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے لیاری میں عمارت گرنے کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ہدایت کی کہ حادثے متعلق فوری رپورٹ پیش کریں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی حکام سے بوسیدہ عمارتوں کی فوری تفصیلات طلب کرتے ہوئے کہا کہ خطرناک عمارتوں کی فوری نشاندہی کی جائے، غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں، انسانی جانوں کا تحفظ ترجیح ہے۔

گورنر سندھ نے بھی عمارت گرنے کے واقعےپر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کو فوری طبی امداد دینے کی ہدایت کی ہے۔

ترجمان محکمہ بلدیات کے مطابق عمارت گرنے کے واقعے کی تحقیقات کیلئےاعلیٰ سطح  کی کمیٹی قائم کردی گئی ہے جو 3 دن کے اندر کوتاہی برتنے والے افسران کی نشاندہی کرےگی۔

ترجمان کا کہناہےکہ وزیربلدیات نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے متعلقہ افسران کو معطل کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔

صدر مملکت آصف زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے بھی عمارت گرنے  پر اظہار  افسوس کیا اور سندھ حکومت کو امدادی سرگرمیوں میں تیزی لانے کی ہدایت کی۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے