ذیابیطس کے مریض سحری میں کس طرح کی غذا کھائیں؟
رمضان المبارک کو رحمت، برکت اور خود احتسابی کا مہینہ قرار دیا جاتا ہے، تاہم ذیابیطس میں مبتلا افراد کی ذمے داری اس ماہ میں بڑھ جاتی ہے۔
سحری نہ کرنے یا صرف ہلکی پھلکی غذا پر گزارا کرنے سے شوگر کے اچانک کم ہونے کا خطرہ بڑھا سکتا ہے، اس لیے سحری ایسی ہونی چاہیے جو دیر تک توانائی فراہم کرے اور شوگر لیول کو متوازن رکھنے میں مدد دے۔
طبی ماہر کے مطابق سحری میں جب روٹی بنائیں تو گندم کے آٹے میں تھوڑی مقدار میں جو کی شامل کر یں اور اس کے ساتھ پروٹین کا مناسب حصہ بھی لازمی رکھا جائے،پروٹین کی ضروری مقدار پوری کرنے کے لیے انڈے یا چکن کا استعمال بہترین ہے، مزید برآں صحت مند چکنائی کا استعمال اور وافر مقدار میں پانی پینا بھی ضروری ہے۔
ماہرین کے مطابق ذیابیطس کے مریضوں کو چاہیے کہ وہ سحری میں تلی ہوئی، چکنی اور زیادہ مسالے دار غذاؤں سے پرہیز کریں اور میٹھی اشیاء کا سختی سے اجتناب کریں۔
مٹھاس کے قدرتی متبادل کے طور پر سٹیویا کے پتے پیس کر مشروبات میں شامل کریں۔
طبی ماہر اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ خون میں شوگر کی سطح کی باقاعدہ نگرانی کی جائے، ذیابیطس کے مریض سحری کے بعد، افطار سے قبل اور روزہ کھولنے کے بعد شوگر لیول ضرور چیک کریں تاکہ رمضان المبارک کے دوران صحت کو برقرار رکھا جا سکے۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں