تمباکونوشی ترک کرنے کی قومی ہیلپ لائن فعال کی جائے: اے آر آئی
اسلام آباد : آلٹرنیٹیو ریسرچ انیشیٹیو (اے آر آئی) نے حکومت سے تمباکونوشی ترک کرنے کی قومی ہیلپ لائن کو انسانی و مالی وسائل کے ساتھ فعال اور مؤثر بنانے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ سگریٹ نوشی چھوڑنے میں تمباکونوشوں کی مدد کی جا سکے۔
اے آر آئی کے پروجیکٹ ڈائریکٹر ارشد علی سید کا کہنا ہے کہ تمباکونوشی ترک کرنے میں مؤثرخدمات و سہولیات کی فراہمی تمباکو سے پاک پاکستان کے حصول کے لیے ضروری ہے۔ ” ا گر ملک بھر میں یہ خدمات وسہولیات بڑے پیمانے پر فراہم نہیں کی گئیں تو تمباکو سے پاک مستقبل کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکے گا۔
ارشد علی سید کے مطابق تمباکونوشی چھوڑنے کی ہیلپ لائن کو فعال اور مؤثر بنانے کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ اس کے لیے انسانی و مالی وسائل بھی مہیا کیے جائیں۔
انگلستان، سکاٹ لینڈ، ویلز اور شمالی آئرلینڈ میں تمباکونوشی ترک کرنے کے مقامی مراکز میں ایڈوائزر موجود ہوتے ہیں جو تمباکونوشی چھوڑنے کے سفر میں سگریٹ نوشوں کی مدد کرتے ہیں۔ اس عمل میں سگریٹ نوش کی تمباکو نوشی کی عادت کا دورانیہ، اسے چھوڑنے کی خواہش کا جائزہ لینے اور اس کے جسم میں کاربن مونو آکسائیڈ (سگریٹ کے دھوئیں میں ایک زہریلی گیس) کی مقدار جانچنے کے لیے سانس کا ٹیسٹ شامل ہیں۔
اس سے اگلے مرحلہ میں نیشنل ہیلتھ سروسز کی جانب سے تمباکونوشی ترک کرنے کے تجویز کردہ علاج کے طریقوں سے مدد کی جاتی ہے۔ ان طریقوں میں سے ایک طریقہ نکوٹین ریپلیسمنٹ تھراپی (این آر ٹی) بھی ہے۔ ایڈوائزر تمباکونوشی ترک کرنے کے لیے ای سگریٹ کے استعمال کے سلسلے میں سگریٹ نوش کی رہنمائی کرتے ہیں۔ وہ تمباکونوشی کی شدید طلب اور اپنی عادت کی طرف دوبارہ مائل ہونے جیسے مشکل حالات کی نشاندہی کرنے میں بھی ان کی مدد کرتے ہیں۔
اے آر آئی کے پروجیکٹ ڈائریکٹر کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک میں تمباکونوشی ترک کرنے کے لیے دستیاب خدمات و سہولیات سے سیکھنے اور اسے اپنانے کی ضرورت ہے۔ ”ہم جب تک سگریٹ نوشی چھوڑنے میں بالغ افراد کی مدد نہیں کریں “گے تب تک تمباکو سے پاک پاکستان کا خواب ادھورا رہے گا۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا کے 1.3 ارب تمباکونوشوں میں سے 80 فیصد کم اور درمیانی درجے کی آمدنی والے ممالک میں رہتے ہیں، پاکستان بھی ان ہی ممالک میں شامل ہے۔ پاکستان میں اس وقت تین کروڑ دس لاکھ سے زیادہ افراد مختلف شکلوں میں تمباکو استعمال کرتے ہیں، جن میں سے نصف سے زیادہ سگریٹ نوش ہیں۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں