کامیابی کی راہ میں تین رکاوٹیں
عالمی شہرت یافتہ اسلامی سکالر ڈاکٹر ذاکر نائیک حکومت پاکستان کی دعوت پر آئندہ ماہ کراچی، لاہور اور اسلام آباد کے دورے پر آرہے ہیں ۔
ڈاکٹر ذاکر نائیک اس وقت ملائیشیا میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں کیونکہ انہیں اپنے آبائی ملک بھارت میں مقدمات کا سامنا ہے ۔
میں نے جب سے ڈاکٹر ذاکر نائیک کے پاکستان آنے کی خبر سنی مجھے اپنے ایک خیر خواہ دوست کی تین نصحیتیں یاد آرہی ہیں۔
دنیا کے بڑے بڑے دانا اور صاحب علم لوگوں کے مشاہدات سے استفادہ کے لئے ہر وقت کتابوں کے مطالعہ میں مگن رہنے والے دوست نے ایک مرتبہ سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر بچوں کے ساتھ میری کچھ تصاویر دیکھیں تو دعائییں دینے کے ساتھ ٹیلی فون کر کے ایک طویل لیکچر دیا اور تین نصیحتیں بھی کیں۔
صحافت اور ادب کے شعبہ سے وابستہ یہ دوست جب بھی کوئی کتاب پڑھتے تو اس کا نچوڑ دوسروں کے ساتھ ضرور شیئر کرتے ،وہ لوگوں کی زندگی کا ایک کھلی کتاب کے طور پر بھی مشاہدہ کرنے کا ہنر خوب جانتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے جب بھی محفل جمتی تو مائیک گھوم پھر کر ان کے پاس پہنچ جاتا اور پھر وہ محفل کو اپنی خوبصورت باتوں سے رونق بخشتے ۔
وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ سوئے ہوئے دشمن کو جگانا نہیں چاہئے، جس ٹیلی فونک لیکچر کا حوالہ دے رہاہوں اس کا آغاز اسی کہاوت سے کیا تو مجھے اندازہ ہوگیا آج مجھ سے کچھ غلط ضرور ہوا ورنہ20 سالہ رفاقت میں گفتگو کا آغاز ایسا تو نہیں ہوتا تھا، حال احوال پوچھنے کے بعد وہ اپنے مطلب کی طرف آئے اور پہلی نصیحت کرتے ہوئے بتایا کہ ایک بار ہم اپنے ایک بھائی کی پیدائش پر مٹھائیاں بانٹ رہے تھے کہ ایک بزرگ نے وجہ معلوم کرنے کے بعد کہا بیٹے کی پیدائش پروردگار کی بڑی مہربانیوں میں سے ایک ہے ، یہ واقعی خوشی کا موقع ہے مٹھائی بھی بانٹنی چاہئے اور خیرات بھی کرنی چاہئے لیکن خیرات کرکے سوئے ہوئے دشمن کو جگانا نہیں چاہئے۔
بابا جی نے ایک واقعہ سنایا کہ ہمارے گائوں میں ایک تین سالہ بچے کااندھا قتل ہوگیا، بڑا عرصہ قاتلوں کا سراغ نہ ملا ،طویل تفتیش کے بعد پولیس نے ایک روز مقتول بچے کے گھر پر چھاپہ مارا اور خاندان کے افراد کو حراست میں لے لیا،پوچھ گچھ کے دوران معلوم ہوا کہ بچے کو کسی اور نے نہیں بلکہ حقیقی چچی نے قتل کیا ہے اور قتل کی وجہ صرف یہ تھی کہ مقتول گوری رنگت والا ایک خوبصورت بچہ تھا جبکہ قتل کرنے والی عورت کے بچے کی رنگت سانولی تھی ، اس عورت نے اقرار کیا کہ میرا بیٹا اتنا خوبصورت نہیں تھا اور خاندان والے دوسرے بچے سے زیادہ پیار کرتے تھے اس لیے میں نے قتل کردیا۔
دوست بتاتے ہیں کہ نصحیت کرنے والے بابا جی ہمیں توجہ دلارہے تھے کہ آپ قصور شہر کو اس لئے چھوڑ کر لاہورمنتقل ہوئے کہ آبائی علاقہ میں دشمنیوں کی وجہ سے حالات موافق نہیں رہے تھے، اب اپنی نجی زندگی کی خوشیاں بھرے بازار میں منا کر اپنے رقیبوں کو حسد کی دعوت کیوں دے رہے ہیں، نجی زندگی کی طرح اپنی خوشیوں کی پرائیویسی کا بھی خیال رکھیں۔ باباجی کی بات کا میرے دل و دماغ پر اتنا اثر ہوا ہے کہ میں نے اپنی کامیابیوں اور خوشیوں کی تشہیر چھوڑ دی، جب بھی کوئی خوشی ملتی ہے اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں اور پریشانیوں پر بھی اسی ذات کی طرف رجوع کرتا ہوں۔
ایسا بھی نہیں کہ ہم کامیابیوں پرخوشیاں مناتے ہی نہیں، خوشی مناتے بھی ہیں اور خوشیاں بانٹتے بھی ہیں لیکن کوشش کرتے ہیں کہ خوشی کااظہار ایسے انداز میں نہ کریں کہ جو کسی کو حسد اور تعصب پر ابھارتا ہو۔
میں اپنے دوست کی اس نصیحت کو سامنے رکھتے ہوئے جب بھی پاکستان کے حالات دیکھتا ہوں تو کسی کامیابی پر اتنی خوشی نہیں ہوتی جتنا دشمنوں کے حسد سے خوف آ جاتا ہے، مجھے ذاکر نائیک کے دورہ پاکستان سے بھی اتنا ہی خوف محسوس ہو رہاہے جتنا آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کے دورہ کابل نے خوفزدہ کیا تھا۔ فیض حمید کا دورہ کابل وقتی طورپر بڑا خوشنما لگ رہا تھا لوگ پاکستان کو داد تحسین دینے لگے تھے اور امریکی تسلط سے افغانستان کی آزادی میں پاکستان کے کردار پر بحث کررہے تھے، لیکن آگے چل کرپاکستانیوں کے لئے وہ جشن عارضی ثابت ہوا اور غیر ملکی افواج نے افغانستان سے انخلاء کے وقت ایسے فیصلے کئے جن کا خمیازہ پاکستان آج بھی بھگت رہاہے ۔
جس افغان سرزمین سے امریکی اور اتحادی افواج کو نکلنے پر مجبور کیا گیا وہاں امن وامان کی صورتحال بہتر ہوگئی اور پاکستان دہشت گردی کی نئی لہر کی لپیٹ میں آگیا ،افغانستان میں غیر ملکی افواج کا چھوڑا ہوا اسلحہ اور جدید ہتھیار دہشتگرد تنظیموں کے ہتھے چڑھ گئے جو اب پاکستان میں دہشت گردی کے لئے استعمال کئے جارہے ہیں ۔ پاکستانیوں کو امید تھی افغان طالبان کے دور میں دونوں برادر ممالک کے تعلقات میں بہتری آئے گی اور افغان سرزمین سے پاکستان میں دہشت گردی اور تخریب کاری کرنے والے عناصر کو لگام ڈالی جائے گی لیکن معاملہ اس کے برعکس ہوا۔
سوات میں حال ہی میں11 ممالک کے سفیروں کے قافلے پر دہشتگرد حملہ ہوا جس میں ایک پولیس اہلکار شہید ہوا۔ دہشت گردی کی یہ واردات دشمنوں کے عزائم صاف صاف بتارہی ہے ۔
برادر ملک ایران کے ساتھ بھی کچھ عرصہ قبل یہی حادثہ پیش آیا کہ فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے سربراہ کو ایران میں شہید کردیا گیا تاکہ ایک طرف حماس کو سربراہ سے محروم کیا جائے اور دوسری طرف حماس کا ساتھ دینے والے ممالک کے بارے میں بھی شکوک وشبہات پیدا کئے جائیں، حماس اور ایران کے دشمن اس منصوبے میں کامیاب رہے اور اسماعیل ہنیہ کی شہادت کے بعداسرائیل کے خلاف کم اور ایران کے خلاف زیادہ آوازیں اٹھنا شروع ہوگئیں۔
پاکستان کا ازلی دشمن بھارت ہے جسے حال ہی میں بنگلہ دیش میں ہند نواز حکومت کا دھڑن تختہ ہونے سے شدید دھچکا لگا ہے، بھارت نے افغانستان کی طرح بنگلہ دیش میں بھی لوگوں کے ذہنوں میں پاکستان دشمنی کا زہر گھولنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، بھارت نے پاکستان کے سب سے قریبی دوست ممالک سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ملائیشیا اور ترکی میں بھی پاکستان کے خلاف نفرت کے پرچار کی کئی کوششیں کیں، کئی ایسے مواقع بھی آئے جب لوگوں کو یہ محسوس ہونے لگا کہ پاکستان کے دوست ممالک میں بھارتی اثر و رسوخ بڑھتا جارہاہے۔
پاکستان کے موجودہ حالات کا تقاضا ہے کہ اپنے دشمنوں کو دشمنی کے میدان وسیع کرنے کا موقع نہیں دینا چاہئے ۔
اللہ کرے ڈاکٹر ذاکر نائیک کا دورہ پاکستان سب کے لئے خیر ثابت ہو اور ہمارے اندیشے محض اندیشے ہی رہیں۔
کامیابیاں حاصل کرنا اور ان کا اظہار ایک فطری چیز ہے جس کو روکا نہیں جاسکتا میرے دوست نے یہ کہہ کر گفتگو تمام کہ اپنی کامیابیوں کو مستحکم کرنا ہے تو پہلی لڑائی غربت سے لڑیں کیونکہ روزی روٹی کی فکر میں مبتلا لوگ اور قومیں جتنی بھی ذہین اور محنتی ہوں ، پیٹ پالنے کی پریشانی ان محنتی لوگوں کی کامیابی میں ایک بڑی دیوار بن جاتی ہے، جو لوگ اس فکر سے آزاد ہوجائیں وہ کامیابی کی راہ پر چل نکلتے ہیں اور آخری بات کہ خود کو تنازعات سے جتنا دور رکھیں کامیابی اتنی ہی یقینی ہوجاتی ہے ۔ دنیا کی تاریخ گواہ ہے تنازعات میں الجھے ہوئے لوگ بڑے مقاصد حاصل کرنے میں خال خال ہی کامیاب ہوا کرتے ہیں۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں