ایران پر ممکنہ نئے حملوں سے پہلے امریکی فوج کے اعلیٰ منصوبہ ساز عہدے سے ہٹا دیے گئے
امریکی جریدے ’دی اٹلانٹک‘ کی رپورٹ کے مطابق امریکہ نے فوج کے اعلیٰ منصوبہ ساز لیفٹیننٹ جنرل بریٹ سلویا کو اہم عہدے سے ہٹا دیا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر نئی فوجی کارروائی کے امکان پر غور کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔جریدے نے امریکی محکمہ دفاع کے نامعلوم حکام کے حوالے سے بتایا کہ بریٹ سلویا کو رواں ہفتے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف میں حکمت عملی، منصوبہ بندی اور پالیسی کے شعبے کی سربراہی سے ہٹایا گیا۔ تاہم انہیں عہدے سے ہٹانے کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی اور نہ ہی ان کے جانشین کا اعلان کیا گیا ہے۔بریٹ سلویا کی برطرفی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک سال قبل دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد امریکی فوج کے اعلیٰ عہدوں سے اہم شخصیات کی رخصتی کے سلسلے کی تازہ کڑی ہے۔امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے گزشتہ ماہ بتایا تھا کہ امریکہ نے اپنے جرنیلوں اور ایڈمرلز کی تعداد میں 20 فیصد کمی کی ہے۔ ان کے مطابق اس اقدام کا مقصد فوج میں احتساب کو یقینی بنانا تھا۔ ہیگسیتھ نے اشارہ دیا تھا کہ اس کٹوتی کا ہدف ایسے افسران تھے جو فوج کی توجہ سابقہ حکومتوں کی ’ووک‘ پالیسیوں کے بجائے جنگی کارروائیوں پر مرکوز کرنے کی ان کی کوششوں سے اتفاق نہیں کرتے تھے۔ انہوں نے اعلیٰ فوجی افسران کی تعداد میں کمی کو کامیابی قرار دیا تھا۔’دی اٹلانٹک‘ کی رپورٹ کے مطابق بریٹ سلویا کو عہدے سے ہٹانے کے معاملے پر امریکی محکمہ دفاع نے کوئی وجہ بیان نہیں کی۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی نے بھی اس معاملے پر تبصرے کے لیے محکمہ دفاع سے رابطہ کیا ہے۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ صدر ٹرمپ 3 نومبر کو ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائی پر غور کر سکتے ہیں۔ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ امریکہ ایک اور ’چھوٹا سا ایپک فیوری آپریشن‘ کر سکتا ہے۔ ان کا اشارہ فروری میں تہران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کی جانب تھا، جن کے نتیجے میں جنگ شروع ہوئی تھی۔ تاہم صدر ٹرمپ نے کسی نئی کارروائی کے ممکنہ وقت کے بارے میں کوئی واضح اشارہ نہیں دیا۔رپورٹ کے مطابق امریکہ اور ایران نے ستمبر کے اوائل سے خشکی پر موجود اہداف کے خلاف کوئی بڑا حملہ نہیں کیا، تاہم دونوں ممالک کے درمیان تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے واقعات جاری ہیں۔لیفٹیننٹ جنرل بریٹ سلویا اس سے قبل امریکی فوج کے 101ویں ایئربورن ڈویژن کی قیادت کر چکے ہیں، جو فضائی کارروائیوں کے لیے مختص امریکی فوج کا ایک اہم ڈویژن ہے۔ وہ عراق میں ایک فوجی یونٹ کی سربراہی کے فرائض بھی انجام دے چکے ہیں۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں