خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایران کے بکھرنے کی امریکی توقع غلط تھی، پاسداران انقلاب
ایران کی پاسداران انقلاب کے سینئر کمانڈر بریگیڈیئر جنرل یداللہ جوانی نے کہا ہے کہ امریکا نے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایرانی نظام کے کمزور ہو کر بکھر جانے کی توقع لگا کر سنگین غلطی کی۔ ان کے مطابق امریکا نے ایران کے استحکام اور بحرانوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت کا درست اندازہ نہیں لگایا۔قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق پاسداران انقلاب کے شعبہ سیاسی امور کے نائب سربراہ یداللہ جوانی نے کہا کہ امریکی حکمت عملی ایران کے معاشرے کی زمینی حقیقتوں کو مدنظر رکھ کر تیار نہیں کی گئی تھی۔ امریکا کا خیال تھا کہ سپریم لیڈر کی موت کے بعد ایرانی نظام کمزور پڑ جائے گا، تاہم ایسا نہیں ہوا۔انہوں نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر بننے سے پہلے بھی امریکا ایران پر مسلسل دباؤ ڈالتا رہا ہے، لیکن ایرانی قیادت کی ثابت قدمی اور مضبوط ردعمل کے باعث یہ کوششیں اپنے مقاصد حاصل نہیں کرسکیں۔رپورٹ کے مطابق فروری کے آخری روز امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای، عسکری قیادت کے بعض اہم ارکان اور قومی سلامتی کے مشیر شہید ہوگئے تھے۔ بعد ازاں ان کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈر مقرر کیا گیا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی قیادت کا اندازہ تھا کہ علی خامنہ ای ایران کی طاقتور ترین شخصیت اور روحانی پیشوا ہونے کے باعث مرکزی حیثیت رکھتے ہیں، اس لیے ان کی موت سے عسکری قیادت اور عوام کا حوصلہ کمزور پڑ جائے گا اور ملک کا نظام انتشار کا شکار ہو سکتا ہے۔اسرائیل کا مؤقف بھی یہی رہا کہ خامنہ ای کی موت کے بعد ایران میں افراتفری پھیل جائے گی، نئی قیادت کو صورت حال سنبھالنے کا موقع نہیں ملے گا اور حکومت مخالف مظاہرین پارلیمان سمیت اہم سرکاری اداروں پر قبضہ کرلیں گے۔تاہم ایرانی قیادت نے اعلیٰ حکام کی ہلاکتوں کے باوجود نظام کے برقرار رہنے کو اپنی کامیابی قرار دیا ہے۔ پاسداران انقلاب کے کمانڈر یداللہ جوانی کے مطابق ایران میں ایک ایسا مضبوط نظام موجود ہے جس میں کسی ایک رہنما کی عدم موجودگی کے باوجود اس کی جگہ دوسرا شخص ذمہ داریاں سنبھال سکتا ہے۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں