خیبرپختونخوا میں بڑا انتظامی ردوبدل، 50 سے زائد سینئر افسران تبدیل

خیبرپختونخوا میں چیف سیکریٹری سمیت 50 سے زائد سینئر بیوروکریٹس کے تبادلوں سے یہ تاثر تقویت پکڑ رہا ہے کہ گورنر راج کے نفاذ کے بعد صوبے میں قائم کی گئی ایڈوائزری کونسل مختصر مدت کے بجائے طویل عرصے تک کام کرنے کے لیے آئی ہے۔11 اکتوبر کو خیبرپختونخوا میں آئین کے آرٹیکلز 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کیا گیا، جبکہ آرٹیکل 245 کے تحت فوج کو بھی طلب کر لیا گیا ہے۔گورنر راج کے نفاذ کے ساتھ ہی صوبے میں 11 رکنی ایڈوائزری کونسل تشکیل دی گئی۔ اس کے بعد صوبائی بیوروکریسی میں بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ کی گئی اور متعدد اہم عہدوں پر نئی تعیناتیاں عمل میں لائی گئیں۔چیف سیکریٹری شہاب علی شاہ کو عہدے سے ہٹا کر وفاقی سیکریٹری ڈاکٹر فخر عالم کو خیبرپختونخوا کا نیا چیف سیکریٹری تعینات کر دیا گیا۔ انتظامی تبدیلیوں کا دائرہ صرف چیف سیکریٹری تک محدود نہیں رہا، بلکہ صوبے کے 19 اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز اور 18 اضلاع کے ڈسٹرکٹ پولیس افسران بھی تبدیل کر دیے گئے۔اس کے علاوہ ایک درجن سے زائد محکموں کے سیکریٹریز اور 20 سے زائد لا افسران کو بھی ان کے عہدوں سے ہٹا کر نئی تعیناتیاں کی گئیں۔رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر فخر عالم کی بطور چیف سیکریٹری تعیناتی کے بعد سابق چیف سیکریٹری شہاب علی شاہ کے قریبی سمجھے جانے والے 15 سے زائد بیوروکریٹس کو بھی ان کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا۔سیکریٹریٹ ذرائع کے مطابق محکمہ خزانہ، محکمہ اعلیٰ تعلیم، محکمہ صحت اور دیگر کئی محکموں کے سیکریٹریز تبدیل کیے جا چکے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایڈوائزری کونسل کے فیصلوں کے تناظر میں مزید اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز، ڈائریکٹر جنرلز اور دیگر اعلیٰ افسران کے تبادلوں کا بھی امکان ہے۔ان وسیع پیمانے پر ہونے والی انتظامی تبدیلیوں کے باعث یہ قیاس آرائیاں زور پکڑ رہی ہیں کہ صوبے میں نئی انتظامی ٹیم کو طویل مدت کے لیے ذمہ داریاں سونپی جا رہی ہیں۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے