خیبر پختونخوا کے 12 اضلاع میں ایمرجنسی کی تیاری، وزیراعظم کا اہم اجلاس طلب

وفاقی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا کے 12 اضلاع میں ایمرجنسی نافذ کرنے اور خصوصی انتظامی ڈھانچہ قائم کرنے کی تجاویز زیر غور ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس مجوزہ اقدام سے متعلق صوبائی حکومت کو پیغام پہنچا دیا گیا ہے، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے آج اہم اجلاس طلب کر لیا ہے، جس میں صوبے کی سیاسی و انتظامی صورتحال اور ممکنہ اقدامات پر غور کیے جانے کا امکان ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق مشاورت کے پیش نظر وفاقی کابینہ کے ارکان کو اسلام آباد میں رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ وفاقی کابینہ کا اجلاس بھی جلد طلب کیے جانے کا امکان ہے، جس میں اعلیٰ سیاسی و عسکری حکام شریک ہو سکتے ہیں۔ اجلاس کے دوران قومی سلامتی کے اداروں کی رپورٹس کا جائزہ لیے جانے کی بھی توقع ہے۔دوسری جانب ایوان صدر میں بھی آج اعلیٰ سطح کا اجلاس متوقع ہے، جس میں صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف شرکت کریں گے۔ مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے وفود کی شرکت بھی متوقع ہے۔ اجلاس میں ملک کی سیاسی صورتحال، مذاکرات کے امکانات، خیبر پختونخوا کے سیاسی مستقبل اور لانگ مارچ سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیے جانے کا امکان ہے۔ذرائع کے مطابق زیر غور تجاویز میں سابق فاٹا کے ضم شدہ قبائلی اضلاع سمیت خیبر پختونخوا کے 12 اضلاع میں ایمرجنسی نافذ کرنا شامل ہے۔ اس کے علاوہ صوبے کے بعض اہم انتظامی اختیارات وفاقی حکومت کے استعمال میں دینے کی تجویز پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔مجوزہ منصوبے میں آٹھ ضم شدہ قبائلی اضلاع خیبر، کرم، اورکزئی، باجوڑ، مہمند، شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان اور زیریں وزیرستان شامل ہیں۔ اس کے ساتھ چار بندوبستی اضلاع ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، بنوں اور لکی مروت کو بھی اس منصوبے کا حصہ بنانے کی تجویز ہے۔ان اضلاع کے لیے صوبائی انتظامی ڈھانچے سے الگ خصوصی انتظام قائم کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔ ابتدائی طور پر ایمرجنسی دو ماہ کے لیے نافذ کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس کے بعد حالات کا جائزہ لے کر اس مدت میں توسیع کرنے کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔مجوزہ انتظامی منصوبے کے تحت ان اضلاع کے لیے گریڈ 21 کے افسر کی سربراہی میں سیکریٹریٹ قائم کرنے کی تجویز ہے۔ اس انتظامی ڈھانچے میں گریڈ 21 کا ایک پولیس افسر بھی تعینات کیا جائے گا، جبکہ چار سے چھ دیگر انتظامی افسران کو بھی شامل کیا جائے گا۔ یہ افسران انتظامیہ، خزانے، ترقی و منصوبہ بندی اور دیگر متعلقہ امور کی نگرانی کریں گے۔ ذرائع کے مطابق ان افسران کی تعیناتی براہ راست وفاقی حکومت کی جانب سے کیے جانے کی تجویز ہے۔مجوزہ نظام کے تحت متعلقہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز، ضلعی پولیس اور ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس کو نئے انتظامی ڈھانچے کے سامنے جواب دہ بنانے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ اس طرح ان اضلاع میں انتظامی اور سکیورٹی امور کی نگرانی کے لیے الگ نظام قائم کیا جا سکتا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مجوزہ اقدامات پر غور کے دوران آئین پاکستان کے آرٹیکلز 232 سے 234 تک کی متعلقہ دفعات کا بھی جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ ان آئینی دفعات میں ہنگامی حالات اور بعض غیر معمولی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مختلف طریقہ کار موجود ہیں۔آئینی طور پر ایمرجنسی کے نفاذ اور گورنر راج کے طریقہ کار اور قانونی اثرات الگ الگ ہیں، اس لیے کسی بھی حتمی اقدام کے لیے متعلقہ آئینی تقاضوں کو مدنظر رکھنا ضروری ہوگا۔ ذرائع کے مطابق آئینی دفعات کی روشنی میں مشاورت کے بعد اہم فیصلوں کی منظوری دیے جانے کا امکان ہے۔تاہم ان تجاویز پر حتمی فیصلے اور ان کے باضابطہ نفاذ سے متعلق صورتحال واضح ہونا ابھی باقی ہے۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے