یوکرینی صدر نے فوج کے کمانڈر اِن چیف کو عہدے سے ہٹا دیا
کیف: یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے فوج کے کمانڈر اِن چیف اولیکسینڈر سرسکی (Oleksandr Syrskyi) کو عہدے سے ہٹا دیا۔
خبرایجنسی کے مطابق یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے ملک کے چیف آف آرمی اسٹاف اولیکسینڈر سرسکی کو عہدے سے برطرف کر دیا اور میخائیلو ڈراپاتی کو نیا کمانڈر ان چیف مقرر کر دیا۔
ان کی برطرفی چند روز قبل وزیر دفاع میخائیلو فیڈوروف کو عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد سامنے آئی ہے، جس کے خلاف ملک بھر میں عوامی احتجاج بھی ہوا تھا۔
ابتدائی طور پر یہ افواہیں گردش کر رہی تھیں کہ فیڈوروف کی برطرفی کی وجہ ان کے اور سرسکی کے درمیان اختلافات ہیں، جن کی بعد میں تصدیق ہوگئی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق 60 سالہ اولیکسینڈر سرسکی کو یوکرین میں ایک ایسے کمانڈر کے طور پر دیکھا جاتا تھا جو سوویت طرزِ فکر رکھتے تھے اور فوج میں بنیادی اصلاحات کے حق میں نہیں تھے۔
ان کی جگہ جنگی تجربہ رکھنے والے اور مقبول جنرل میخائیلو ڈراپاتی کو نیا آرمی چیف مقرر کیا گیا ہے۔
منگل کی شب سوشل میڈیا پر جاری اپنے ویڈیو پیغام میں زیلنسکی نے سرسکی کی عسکری خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے 2022 میں روس کے مکمل حملے کے ابتدائی دنوں میں دارالحکومت کیف کے کامیاب دفاع میں اہم کردار ادا کیا۔
زیلنسکی نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے اسی روز فیڈوروف سے ملاقات کی اور انہیں حکومت میں ایک "باوقار عہدہ” سنبھالنے کی پیشکش کی، تاہم یہ واضح نہیں کیا کہ آیا انہوں نے یہ پیشکش قبول کی یا نہیں۔
زیلنسکی نے کہا، "تمام فیصلوں کو کل باضابطہ شکل دے دی جائے گی۔”
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں