مودی کے غیر معروف ملک کے دورے پر اے آئی سے تخلیق شدہ اعزاز میں کئی غلطیاں، اپوزیشن نے آڑے ہاتھوں لے لیا
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے غیر ملکی دوروں پر اعزازات حاصل کرنےکا سلسہ جاری ہے جس کے باعث وہ نہ صرف عالمی میڈیا بلکہ خود بھارت میں مذاق بن کر رہ گئے ہیں۔
حال ہی میں نریندر مودی بحرہند میں واقع افریقا کے جزائر پر مشتمل سب سے چھوٹے ملک سیشلز پہنچے تو انہیں ملک کے اعلیٰ ترین اعزاز سے نوازا گیا۔
بھارتی وزیراعظم نے مسکراتے ہوئے ‘گارڈین آف دی بلیو ہورائزن’ کا اعزاز وصول کیا، جو سیشلز کے صدر پیٹرک ہرمینی نے انہیں ٹرافی اور سرٹیفکیٹ کی صورت میں پیش کیا۔
تاہم مبصرین نے اس اعزاز سے متعلق کئی بے ضابطگیوں کی نشاندہی بھی کی ہے، سرٹیفکیٹ میں ریپبلک کی اسپیلنگ غلط لکھی گئی تھی، جبکہ سیشلزکو بھی غلط انداز میں سیچیلیز لکھا گیا تھا۔ یہ بھی معلوم ہواکہ یہ ایوارڈ مودی کی آمد سے صرف تین دن پہلے تخلیق کیا گیا تھا اور وہ اس کے پہلے اور واحد وصول کنندہ ہیں۔
برطانوی اخبار کے مطابق جب اس سرٹیفکیٹ کو سافٹ ویئر کے ذریعے جانچا گیا تو اسے بڑی حد تک مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے تیار کردہ قرار دیا گیا۔
بھارت کی اپوزیشن جماعت کانگریس نے اس معاملے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں کوئی بھی ایوارڈ دے دو، وہ فوراً پہنچ جاتے ہیں۔ کانگریس رہنما سپریا شرینیت نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ جلدی میں انہوں نے ملک کا سرکاری نام بھی غلط لکھ دیا۔
دوسری جانب بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے اس اعزاز کو بھارت کے لیے فخر کا لمحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ مودی کی لیڈرشپ کا اعتراف ہے۔
بعد ازاں سیشلز کی وزارتِ خارجہ نے بیان جاری کیا کہ یہ سرٹیفکیٹ ایک ابتدائی مسودہ تھا جو غلطی سے جاری ہو گیا، جبکہ اب حتمی اور باضابطہ طور پر منظور شدہ ورژن جاری کیا جا چکا ہے۔ وزارت نے مزید کہا کہ گارڈین آف دی بلیو ہورائزن ایک حقیقی اعزاز ہے۔
ناقدین کے مطابق مودی کے 12 سالہ دور حکومت میں ان کا ایک نمایاں رجحان مختلف بین الاقوامی اعزازات حاصل کرنا بھی رہا ہے۔
گزشتہ ماہ اسرائیل کے دورے سے چند دن قبل اسرائیلی پارلیمنٹ نے بھی جلدی میں ایک نیا اعزاز میڈل آف دی کنیسٹ تشکیل دیا، جو مودی کو ان کے ملک پہنچنے پر دیا گیا اور وہ بھی اس کے واحد وصول کنندہ ہیں۔
گزشتہ ایک سال میں مودی ایتھوپیا کے گریٹ آنر نیشان اور ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو کے آرڈر آف دی ریپبلک کے پہلے غیر ملکی سربراہ بھی بن چکے ہیں۔
یہ صورتحال بھارت میں بناوٹی وقار کی سیاست پر سنجیدہ سوالات اٹھاتی ہے: عطا تارڑ
پاکستانی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے سوشل میڈیا پر ردعمل دیتے ہوئے لکھا کہ یہ صورت حال بھارت میں بناوٹی وقار کی سیاست پر سنجیدہ سوالات اٹھاتی ہے۔جب غیر ملکی اعزازات کسی دورے سے چند دن پہلے ہی تخلیق کیے جائیں، جب سرٹیفکیٹس میں بنیادی املا کی غلطیاں موجود ہوں اور جب وصول کنندہ اس اعزاز کا پہلا اور واحد وصول کنندہ ہو تو امیج منیجمنٹ کی یہ حکمت عملی ایک شرمندگی بن جاتی ہے۔
عطا اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ برسوں سے بی جے پی ایسے اعزازات کو بھارت کی عالمی سطح پر پہچان کے ثبوت کے طور پر پیش کرتی رہی ہے، حالانکہ اندرون ملک اس پر نفرت پر مبنی پالیسیوں کے الزامات بھی عائد کیے جاتے ہیں۔ لیکن اب یہ تضاد چھپانا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں