عمران خان کی رہائی نظر نہیں آتی، وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ

وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ عمران خان کو 190 ملین پاؤنڈ کرپشن کیس میں 14 سال قید کی سزا سنائی جا چکی ہے اور وہ جیل سے باہر آتے دکھائی نہیں دیتے۔ ضمانت تو قاتل اور ڈکیت کی بھی ہو جاتی ہے۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عمران خان اس کیس میں براہ راست ملوث ہیں اور انہیں جواب دینا ہوگا کہ ملک ریاض کو کس طرح پیسے دیے گئے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ حکومت پاکستان کو آنے والا پیسہ جرمانے کی مد میں جمع کرایا جائے؟

وزیر اطلاعات  نے الزام لگایا کہ کابینہ سے بند لفافے میں معاہدے کی منظوری لی گئی، جب عمران خان سے پوچھا گیا کہ لفافے میں کیا ہے تو انہوں نے کہا اس پر بات نہ کریں، بس منظوری دے دیں۔عمران خان کی فیملی نے ملک ریاض سے پانچ پانچ قیراط کی انگوٹھیاں لیں، ان کا حساب بھی دینا ہوگا کہ وہ کس مد میں لی جاتی رہیں۔

عطا اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی رہنما ضمانت پر خوشیاں منا رہے ہیں، حالانکہ ضمانت تو قاتل اور ڈکیت کو بھی ملتی ہے۔ ضمانت اور بریت میں واضح فرق ہے، لیکن عمران خان کے ساتھی اس فرق کو سمجھنے کے بجائے شادیانے بجا رہے ہیں۔پی ٹی آئی قیادت حساب دینے کے بجائے مذہبی کارڈ اور اسلامی ٹچ استعمال کررہی ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ عمران خان اس وقت میگا کرپشن کیس میں سزا کاٹ رہے ہیں اور 9 مئی کے مقدمات کا ٹرائل ابھی جاری ہے۔

وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے دعویٰ کیاکہ 9 مئی کے واقعات روز روشن کی طرح واضح ہیں اور یہ سب کچھ عمران خان کی منصوبہ بندی کے تحت ہوا۔ان کا کہنا تھا کہ یہ مقدمات پوری قوم کے ہیں اور پی ٹی آئی کو اپنے رویے پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے