پشاور پریس کلب مختلف کیسے۔۔۔؟
پاکستان کے ہر شہر میں ایک پریس کلب ضرور دیکھنے کو ملتاہے اور بعض شہروں میں یہ تعداد ایک سے زیادہ بھی ہے، پاکستان کی کوئی تحصیل اور ضلع ایسا نہیں جہاں پریس کلب نہ ہو ، ہر پریس کلب میں اپنے علاقے کے رجسٹرڈ صحافیوں کو پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے لئے کچھ سہولیات میسر ہوتی ہیں تاہم پشاور پریس کلب ملک کا واحد پریس کلب ہے جو صحافیوں کو کچھ ایسی سہولیات فراہم کررہاہے جن کی مثال ملک کے کسی دوسرے پریس کلب میں نہیں ملتی ۔
پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتیں مختلف پریس کلبوں کو سالانہ گرانٹس فراہم کرتی ہیں ، یہ رقم صحافیوں کی فلاح وبہبود کے مقاصد کے لئے ہوتی ہے، نیشنل پریس کلب اسلام آباد، لاہور پریس کلب اور کراچی پریس کلب سب سے زیادہ گرانٹ حاصل کرتے ہیں، پشاور، کوئٹہ اورملتان میں پریس کلبوں کو ملنے والی گرانٹ ملک کے چھوٹے شہروں کی نسبت کافی زیادہ ہے تاہم صحافیوں کو ملنے والی گرانٹ کے شفاف استعمال کے حوالے سے صحافتی کمیونٹی کی طرف سے ہی سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں لیکن پشاور پریس کلب نے کچھ ایسی روایات کا آغاز کیا ہے جو باقی پریس کلبوں سے مختلف بھی ہیں اور شفافیت کے اعتبار سے بے مثال بھی ۔
پشاور پریس کلب گزشتہ کئی سال سے اپنے ادارے کو ملنے والی گرانٹ اور آمدن مساوی بنیادوں پر کلب کے ساتھ رجسٹرڈ تمام ممبران تک پہنچا دیتا ہے، عید الفطر اور عید قربان کے موقع پر پریس کلب کے ہر ممبر کو مساوی بنیادوں پر ایک مالی پیکج دیا جاتاہے جبکہ کسی خوشی اور غمی کی صورت میں بھی پریس کلب ممبران کی مالی مدد کا ایک محدود مگر منظم انتظام موجود ہے ، اگلے مرحلے میں ممبران کو سولر پینل بھی فراہم کرنے کی تیاری ہورہی ہے ، یہ ایسی سہولیات ہیں جو اتنے منظم انداز میں پاکستان کے کسی دوسرے پریس کلب میں میسر نہیں ،پشاور پریس کلب اس سے قبل اپنے ممبران کو موٹرسائیکل، لیپ ٹاپس، کیمرہ ایکیویپمنٹس بھی فراہم کرچکا ہے، تربیتی ورکشاپس،فری میڈیکل کیمپ، بچوں اور فیملیز کے لئے پروگرامات اور کھیلوں کی سرگرمیاں بھی سارا سال جاری رہتی ہیں۔
پشاور پریس کلب نے صحافیوں کے لئے تین بڑی رہائشی سکیمیں منظور کروائیں جس کے نتیجے میں میڈیا کمیونٹی کے بہت سے دوستوں کو اپنا گھر نصیب ہوا، کچھ دوستوں نے درانی میڈیا کالونی اور ریگی میں ہی مکانات تعمیر کئے جبکہ بعض نے پلاٹس فروخت کرکے کسی متبادل جگہ گھر بنایا، اب نیو پشاور ویلی میں صحافی برادری کےلئے ایک بڑی میڈیا کالونی کے الاٹمنٹ لیٹرز بھی اسی سال جاری کئے جائیں گے۔
نیو پشاور ویلی کو خیبر پختونخوا حکومت کا ایک سٹیٹ آف دی آرٹ رہائشی منصوبہ قرار دیا جارہاہے جس کی تکمیل کا ٹاسک پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی سے واپس لے کر پختونخوا ہائوسنگ اتھارٹی کے سپرد کیا گیا ہے ۔ اس منصوبے کو مختلف زون کی شکل میں تکمیل تک پہنچایا جائے گا ،باقی شہریوں کی طرح میڈیا کمیونٹی کےلئے بھی یہ ایک بڑی خوشخبری ہے ۔
پشاور پریس کلب میں وسائل کی نچلی سطح تک تقسیم تقریباً ہر دور میں ہوتی رہی تاہم اس کا دائرہ وسیع کرنے اور شفافیت یقینی بنانے کے لئے کی جانے والی اصلاحات میں بہت اہم کردار موجودہ صدر ایم ریاض کا ہے جنہیں صحافتی کمیونٹی نے ایک سے زائد مرتبہ پریس کلب کی صدارت کی ذمہ داری تفویض کی
صحافیوں کےلئے رہائشی سکیمیں صرف پشاور تک محدود نہیں ،کراچی، لاہور، اسلام آبادراولپنڈی، ،ملتان اور دیگر کئی شہروں میں بھی میڈیاکالونیزموجود ہیں،صحافیوں کو پلاٹس اورفلیٹس تقریباً ہر حکومت کسی نہ کسی جگہ دیتی رہی ہے ، وفاقی حکومت کی رہائشی سکیموں میں صحافیوں کا باضابطہ کوٹہ مقرر ہے جس کےتحت اسلام آباد کے مختلف سیکٹرز میں بھی صحافیوں کو پلاٹس اور فلیٹ دیئے گئے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا جتنی شفافیت پشاور پریس کلب دکھا رہا ہے اتنی ہی شفافیت کہیں اور بھی ہے؟ تو اس کا سیدھا سا جواب نفی میں ہے ۔ ہر حکومت میڈیا کی تنظیموں اور اداروں کو سالانہ اربوں روپے کی گرانٹس مختلف شکلوں میں دیتی ہے لیکن یہ فوائد کارکن صحافیوں تک کم ہی پہنچتے ہیں، مراعات چند ہاتھوں تک محدود رہنے کی شکایات ہر شہر میں سنائی دیتی ہیں۔
پاکستان کی میڈیا انڈسٹری اس وقت جس بحران سے گزر رہی ہے اگر صحافی برادری نے خود ہی بیٹھ کر اس کا کوئی حل تلاش نہ کیا تو مستقبل میں صحافیوں کو جاب سکیورٹی اور واجبات کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ شناخت کے بحران کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔
اگر میڈیا انڈسٹری اور صحافیوں کو بحران سے نکالنا ہے تو اس کا ایک ماڈل پشاور پریس کلب نے متعارف کروا دیا ہے کہ وسائل برابری کی بنیاد پر تقسیم کئے جائیں،اس ماڈل کو ملک گیر سطح پر نافذ کیا جائے اور یہ ماڈل صرف پریس کلبوں تک محدود نہ ہو بلکہ تمام میڈیااداروں کے مالک کو اپنی آمدن کا ایک مخصوص حصہ ورکرزپر خرچ کرنے کا پابند بنایا جائے ،جو مالکان سالانہ اربوں روپے صحافیوں کا خون پسینہ بہا کر کماتے ہیں وہ اگر ورکرز کو صرف جائز واجبات بروقت ادا کردیں تو انڈسٹری اور مالکان دونوں خوشحال رہیں گے بصورت دیگر ظلم اور ناانصافی کا موجودہ نظام میڈیامالکان اور صحافی برادری دونوں کے وجود کو ہی مٹا دے گا، ہمارے سامنے ایسے بے شمار شعبہ جات ہیں جن کا کسی زمانے میں طوطی بولتا تھا مگر آج ان کا نام ونشان تک مٹ گیا ہے۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں