آفاقی گاؤں کے اجبنی ہمسائے

آج کی انسانی دنیا رہن سہن کے جن اصولوں اور تہذیب و معاشرت کے جن نظاموں کی پیروکار ہے، ا ن میں بظاہر تفریح بھی ہے، ذہنی آسودگی بھی۔ معاشی بہتری اور سماجی ترقی بھی ہے اور ثقافت کی رنگارنگی بھی۔۔۔گھٹن اور جبر نہیں ، آزادی اور آزاد خیالی عام ہے۔
دانشور طبقہ کہتا ہے کہ ایسا ماحول اور فضا انسانی ذہن کی ترقی کے لیے ، فکر و خیال کے ارتقاء اور تخلیقی صلاحیتوں کی آبیاری کے لئے بہتر بھی ہے اور ضروری بھی!نظریاتی اعتبار سے بھی اس تہذیب نے انسان کو ایک طرف آزادی اور دوسری طرف مساوات کا تحفہ دیا ہے۔۔۔ یہ بہت دلچسپ بات ہے کہ سب انسان آزاد ہوں، کسی قسم کی کوئی پابندی اور قدغن ان پر نہ ہو پھر بھی مساوات یا برابری قائم رہ جائے۔تاہم موجودہ انسانی معاشروں کا سیاسی مذہب ”جمہوریت” قرار پائی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کی اکثریت جس کام کو بہتر اور درست سمجھے وہی بہترا ور ضروری ہیں ۔
موجودہ تہذیب نے انسان کو اپنے بنیادی حقوق کا شعور بھی دیا ہے اور ان حقوق کے حاصل کرنے کے اصول اور طریقے بھی بتائے ہیں جن کی بدولت سمجھا یہی جاتا ہے کہ انسان اپنے لئے زندگی کی بہت سی ضروریات حاصل کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔ سائنسی ترقی بھی اس دور کا امتیازی نشان ہے جس کے ذریعے انسان نے اپنے رہن سہن کی بے شمار سہولتیں حاصل کی ہیں۔ سفر میں آسانیاں، ذرائع ابلاغ میں ترقی اور سرعت، پیداوار میں اضافہ اور تعلیم و تعلم میں جدید ذرائع کا استعمال جیسے مرحلے عبور کئے ہیں۔
سب سے بڑھ کر یہ کہ ذہنی آسودگی، خوشگوار موڈ، لطف اندوزی اور سکون وآرام کے ذرائع میسر آگئے ہیں۔ یہ ثقافت یعنی کلچر (Culture)کے عروج کا دور ہے جس میں انسان کی ذہنی اور جسمانی تسکین کے سارے ذرائع موجود ہیں۔
آمدورفت کے ذرائع، چیزوں کی نقل و حمل اور درآمد و برآمد کے وسیع نظام کے ساتھ اطلاعات کی ایک جگہ سے دوسری جگہ تک کم سے کم وقت میں رسائی، ترقی یافتہ اور مہذب انسانوں کی عادات اور خصائل پر مشتمل کلچر کی غیر مہذب اور پسماندہ علاقوں میں منتقلی ۔۔۔ان سب نعمتوں کی وجہ سے پوری دنیا ایک آفاقی گاؤں (Global Village)کی حیثیت اختیار کرگئی ہے، جس میں فاصلے ختم ہو گئے ہیں، اجنبیت دور ہوگئی ہے، قربت بڑھ گئی، رابطے اور تعلق مضبوط ہوگئے ہیں اور انسان خوشگوار اور خوشحال زندگی کے مزے لے رہا ہے۔
جس طرح انسان کی سوچ اور فکر کا اثر اس کی اپنی زندگی اور باہر کے ماحول پر ہوتا ہے اسی طرح خارجی اور بیرونی ماحول کا اثر اس کی نظریاتی اور فکری زندگی پر براہِ راست اپنے اثرات چھوڑتا ہے۔ دوطرفہ اثر و تاثیر کے نتیجہ میں انسان کے فکراور عمل میں تبدیلی کا تسلسل ایک گول چکر کی مانند ہوتا ہے جس کا آغاز اور انجام ایک دوسرے سے ملے ہوتے ہیں۔
اس تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے آزادی اور آزاد خیالی کی شاہراہ پر چلتے ہوئے آج انسان، صدیوں سے قائم اخلاقی اصول کو پامال کرلینے میں بے باک ہو گیاہے ۔جس آزاد ماحول کو دانشور انسان کی تخلیقی صلاحیتوں کے لئے ضروری قراردیتے ہیں۔ وہ خواہشات کی بھرمار کا اسیر ہے۔ انسانی ہوس کی مختلف شکلوں سے آراستہ ہے۔
ذہنی آسودگی کے نام پر، پُر لطف زندگی کی خواہش میں اور تفریح کی آڑ میں،خودغرضی کے چنگل میں پھنساہوا ہے۔ ذرائع ابلاغ کی ترقی کے اس دور میں انسان دوسرے براعظم کے حالات سے باخبرہے مگر اپنے ہمسائے کے دکھ درد سے واقف نہیں۔ بنیادی حقوق کے حصول کے لئے جدوجہد کرنے والا اپنے بنیادی فرائض کی ادائیگی سے لاپرواہ ہے۔
سائنسی ترقی کے ذریعے ملنے والی سہولیات زندگی نے انسان کو اپنی ذات تک محدوداور اپنی خواہشات کی تکمیل پر مطمئن کردیا ہے۔ ذرائع ابلاغ کی ترقی اور سرعت رفتار سے معلومات کا سیلاب امڈ آیا ہے مگر انسان کی طبعیت میں جو تجسس اور ذوق لطیف کا خزانہ تھا، ضائع ہوچکا ہے۔ دوسرے براعظم تک کی خبر لمحوں میں پہنچ جاتی ہے مگر ہمسائے کی سسکیاں ہفتوں تک سنائی نہیں دیتیں۔
ساتھ والے گھر میں آگ لگنے کی خبر بھی اخبار سے معلوم ہوتی ہے۔ظاہری حقائق اور کثرت معلومات کے طوفان نے انسان کو فکری الجھاؤ ، ذہنی بے سکونی اور روحانی بنجرپن سے وابستہ کردیا ہے۔ گویا کہ ”دل نزع کی حالت میں ، خرد پختہ و چالاک” سے بات آگے بڑھ کر ”خرد بیزار دل سے ، دل خرد سے” کی صورتحال سامنے آچکی ہے۔ سہولیات زندگی وافر مقدار میں میسرآگئی ہیں مگر انسان بذات خود، زندگی کے لئے مارے مارے پھررہا ہے:
بس کہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا، آدمی کو بھی میسر نہیں ا نساں ہونا !

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے