ایران ڈیل چاہتا ہے، ہم مذاکرات کررہے ہیں اور اس کا کوئی نتیجہ بھی نکلےگا، ٹرمپ

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ہماری فوج نےبہترین کام کیا، ایران ڈیل چاہتا ہے، اس کے ساتھ بات چیت کا عمل جاری ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں صدر منتخب نہ ہوتا تو امریکا اب تک ختم ہوچکا ہوتا، میں نےجرائم پیشہ افراد اور قاتلوں کو امریکا سے نکالا۔

ٹرمپ نے کہا کہ ماضی میں دنیا کے برےترین افراد کو امریکا میں داخل ہونےکی اجازت دی گئی، ہمیں ان پر اعتراض ہے جو امریکا میں جرائم کرتےہیں۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ہماری فوج نےبہترین کام کیا، ایران ڈیل چاہتا ہے، ایران کے ساتھ بات چیت کا عمل جاری ہے، ہم مذاکرات کررہے ہیں اور اس کا کوئی نتیجہ بھی نکلےگا۔

اس کے علاوہ ٹرمپ نے ایک اور تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مڈنائٹ ہیمر آپریشن کے بعدبھی ایران نے ایٹمی صلاحیت پرکام جاری رکھا، ایران کے پاس ایٹم بم ہوتا تو وہ اسرائیل کے خلاف استعمال کر سکتا تھا۔

ان کا کہنا تھاکہ ایران نے سعودی عرب، بحرین،قطر،کویت پر میزائل حملےکیے، ایران اب کبھی بحری جنگی جہاز نہیں بنا سکےگا۔

امریکی صدر نے کہا کہ ہم ایرانی رجیم کے خطرے کو ختم کر رہےہیں، ایران 47 سال سے مشرق وسطیٰ میں سب کو ہراساں کر رہا تھا، ایران اب مشرق وسطیٰ میں کسی کو ہراساں نہیں کر سکےگا، کسی کوتوقع نہیں تھی کہ ایران مشرق وسطی پر حملہ کردےگا،آج ہم ایرانی خطرے سے پاک مشرق وسطیٰ کے عروج کے پہلے سےکہیں زیادہ قریب ہیں۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ میں نےہمیشہ کہا ہے کہ نیٹو کاغذی شیر ہے، ہم نے ہمیشہ نیٹو کی مدد کی لیکن انہوں نےکبھی ہماری مدد نہیں کی، نیٹو نے ہماری مدد نہ کر کے بڑی غلطی کی ہے، نیٹو کے برعکس سعودی عرب، قطر، یواےای، بحرین،کویت نے مدد کی اور لڑے۔

ٹرمپ نے کہا کہ سعودی ولی عہد میرے دوست ہیں، وہ جنگجو ہیں،ایران سے نہیں ڈرتے، سعودی عرب، یواےای اور قطر کی لیڈرشپ کے شکرگزار ہوں۔

امریکی صدر نے کہا کہ ترکیے نے معاملے سے خود کو دور رکھا، میرا خیال ہے مشرق وسطی کے تمام ممالک ابراہیم معاہدےمیں شامل ہوں گے۔

دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران میں زمینی فوج اتارے بغیر اپنے مقاصد حاصل کرسکتے ہیں، ایران جنگ مہینوں نہیں ہفتوں میں ختم ہونے کی توقع ہے ۔

فرانس میں جی سیون وزرائے خارجہ سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو مارکو روبیو نے کہا کہ ایران میں ٖفوجی مقاصد پانے کے باوجود بھی آبنائے ہرمز کھلی رکھنا ایک ‘فوری چیلنج’ بن سکتا ہے۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے