سپین کی مستقبل کی ملکہ لیونور کی فوجی تربیت کے آخری مرحلے کا آغاز

سپین کی ولی عہد شہزادی لیونور نے پیر کے روز جنرل ایئر اینڈ اسپیس اکیڈمی مرسیا کے شہر سان خاویئر میں اپنی 3 سالہ فوجی تربیت کے آخری اور سب سے مشکل مرحلے کا آغاز کردیا۔

 شہزادی مکمل فوجی وردی میں ملبوس الفیریز آلومنا (کیڈٹ انسائن) کے طور پر چوتھے سال کے کیڈٹس کے ساتھ شامل ہوئیں۔ وہ ایل ایک ایکس 8 پروموشن کے اس کورس کا حصہ بنیں جس میں سخت تربیت دی جاتی ہے۔

 یہ مرحلہ صرف تربیت کا اختتام نہیں بلکہ ایک روایت کی تجدید بھی ہے۔ شہزادی کے والد بادشاہ فلپ ششم اور دادا بادشاہ جان کارلوس اول بھی ماضی میں اسی ادارے سے فوجی تربیت حاصل کر چکے ہیں۔

 اس سے قبل وزارت دفاع کی ایک نگرانی کے دوران وزیر دفاع مارگریٹا روبلس نے واضح کیا تھا کہ شہزادی لیونور کو کسی قسم کی خصوصی رعایت حاصل نہیں ہو گی۔ ان کے بقول شاہی خاندان کا اصول ہے کہ شہزادی کو دیگر کیڈٹس کی طرح ہی سمجھا جائے اور وہ اسی سخت شیڈول کے تحت تربیت حاصل کریں گی۔

 شہزادی کا روزانہ کا معمول صبح 6:30 بجے جاگنے سے شروع ہوتا ہے۔ دن بھر لیکچرز، سمیولیٹر سیشنز اور مشقیں ہوتی ہیں اور رات مطالعے یا ورزش کے بعد اختتام پذیر ہوتی ہے۔

 شہزادی کی رہائش عام کیڈٹس کے ساتھ مشترکہ کمروں میں ہو گی جہاں وہ دیگر ساتھیوں کے ساتھ زندگی گزاریں گی۔ اس ماحول کا مقصد صرف جسمانی نہیں بلکہ ذہنی مضبوطی کو بھی جانچنا ہے۔

 آنے والے مہینوں میں شہزادی لیونور کو جدید جنگی طیاروں پر تربیت دی جائے گی۔ اگر وہ تیار ہوں تو ایک سے چھ ہفتوں میں ان کے سولو فلائٹ کی بھی توقع کی جا سکتی ہے۔ اکیڈمی نے حالیہ برسوں میں طلبہ کے لیے رہائش، سہولیات اور تربیتی سمیولیٹرز کو جدید خطوط پر استوار کیا ہے تاکہ فوجی تعلیم کے معیار کو مزید بلند کیا جا سکے۔

 ہسپانوی شہزادی لیونور کے لیے یہ مرحلہ صرف تربیت نہیں بلکہ مستقبل کی قیادت کے لیے خود کو تیار کرنے کا عمل ہے۔ایک دن وہ سپین کی مسلح افواج کی کیپٹن جنرل کے طور پر خدمات انجام دیں گی اور یہ سفر نظم و ضبط، خدمت اور وقار پر مبنی قیادت کی بنیاد بن رہا ہے۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے