امریکی و اسرائیلی شہریوں کیخلاف مقدمات چلانے کا الزام، ٹرمپ کا آئی سی سی عہدیداران پر پابندی کا اعلان
ٹرمپ انتظامیہ نے بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے خلاف اقدامات میں مزید شدت پیدا کرتے ہوئے اس کے 4 اعلیٰ عہدیداروں پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔
ان عہدیداروں میں 2 جج اور 2 پراسیکیوٹرز شامل ہیں جن پر الزام ہے کہ وہ امریکی اور اسرائیلی شہریوں کے خلاف مقدمات چلانے کی کوششوں میں شامل تھے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق ان افراد کے امریکہ میں موجود تمام اثاثے منجمد کر دیے گئے ہیں۔
پابندیوں کا نشانہ بننے والے ججوں میں کینیڈا کی کمبرلی پروسٹ اور فرانس کے نیکولاس گیو شامل ہیں جبکہ پراسیکیوٹرز میں فجی کی نزہت شمیم خان اور سینیگال کے مامے منڈیائے نیانگ شامل ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ یہ افراد ایسے اقدامات میں ملوث ہیں جو امریکا یا اسرائیل کی مرضی کے بغیر ان کے شہریوں کے خلاف تحقیقات یا گرفتاری کے عمل کو آگے بڑھا رہے تھے۔
اس اقدام کی عالمی سطح پر شدید مذمت کی گئی ہے۔ آئی سی سی نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ پابندیاں ایک غیر جانبدار عدالتی ادارے کی آزادی پر کھلا حملہ اور قواعد پر مبنی عالمی نظام کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے بھی امریکا کے اقدام پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آئی سی سی بین الاقوامی انصاف کا ایک اہم ستون ہے اور اسے اپنی ذمہ داریاں آزادانہ طور پر ادا کرنے دینا چاہیے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے اس فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اسرائیل اور اس کی فوج کے خلاف جھوٹے پروپیگنڈے کے خلاف ایک مضبوط قدم ہے۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں