ٹرمپ کو بتایا گیا تھا کہ انکا نام جنسی سمگلنگ میں ملوث جیفری ایپسٹین کی دستاویزات میں موجود ہے: امریکی اخبار
امریکی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی اٹارنی جنرل پام بانڈی اور ان کے نائب نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ان کا نام جنسی اسمگلنگ میں ملوث جیفری ایپسٹین کی دستاویزات میں موجود ہونے سے متعلق بتایا تھا۔
امریکی اخبار کے مطابق مئی میں ایک میٹنگ کے دوران امریکی اٹارنی جنرل پام بانڈی اور ان کے نائب نے صدر ٹرمپ کو بتایا تھا کہ ان کا نام جنسی اسمگلنگ میں ملوث جیفری ایپسٹین کی دستاویزات میں موجود ہے۔
اخبار کے مطا بق ٹرمپ کو یہ بھی بتایا گیا تھا کہ کئی دیگر اعلیٰ شخصیات کے نام بھی ہیں مگر محکمہ تحقیقات سے متعلق مزید دستاویزات جاری کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے امریکی اخبار کی خبر کو فیک نیوز قرار دیتے ہوئے کہا ہےکہ یہ ڈیموکریٹس اور لبرل میڈیا کی طرف سے گھڑی جانے والی جعلی خبروں کے تسلسل کے سوا کچھ نہیں ۔
اس سے پہلے ٹرمپ انتظامیہ نے دعویٰ کیا تھا کہ جیفری نے ان افراد کی فہرست مرتب نہیں کی جنہیں وہ کمسن لڑکیاں فراہم کرتا رہا تھا۔صدرٹرمپ کے سابق مشیر ایلون مسک پہلے ہی کہہ چکےہیں کہ فہرست اس لیے جاری نہیں کی جارہی کیونکہ اس میں ٹرمپ کا نام موجود ہے۔جیفری ایپسٹین اگست 2019 میں اپنی جیل میں مردہ پایا گیا تھا۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں