بیلجیئم میں ممکنہ پنشن اصلاحات کے خلاف ملک گیر ہڑتال ، ہزاروں افراد کا احتجاج
بیلجیئم میں ممکنہ پنشن اصلاحات کے خلاف ہزاروں مظاہرین نے ملک گیر ہڑتال کے دوران برسلز کی سڑکوں پر مارچ کیا۔ حکام کے مطابق، تقریباً 30,000 افراد نے اس احتجاج میں شرکت کی
نیشنل ریلوے ورکرز یونین کے صدر نے کہا کہ حکومت کے مذاکرات کاروں کے لیے وارننگ ہے، کیونکہ جو معلومات ہمیں موصول ہو رہی ہیں، ان کے مطابق، پنشن سے متعلق اقدامات ملک کے تمام محنت کشوں، خاص طور پر ریلوے کارکنان پر اثر انداز ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں:برطانوی وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر کا برطانیہ کو مصنوعی ذہانت کا "سپر پاور” بنانے کا عزم
ہڑتال کے باعث بیلجیئم میں فجائی اور ریل کا نظام بری طرح متاثر ہوا۔برسلز ایئرپورٹ پر تقریباً نصف پروازیں منسوخ کر دی گئیں، کیونکہ سامان اٹھانے والے، سیکیورٹی اور دیگر گراؤنڈ اسٹاف ہڑتال پر تھے۔ قومی ٹرین آپریٹر کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں صرف محدود تعداد میں ٹرینیں چلائی جا رہی ہیں۔
دارالحکومت برسلز میں پبلک ٹرانسپورٹ بھی شدید متاثر ہوئی، جبکہ اسکول بند رہے، کیونکہ ہزار اساتذہ نے جون 2024 کے انتخابات کے بعد نئی حکومت کی تشکیل کے دوران زیر بحث اصلاحات کے خلاف قومی مظاہرے میں شرکت کی۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں