اقوام متحدہ کے سربراہ کا اسرائیل سے شام پر حملے روکنے کا مطالبہ

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اسرائیل کے شام پر فضائی حملوں کو ملک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ۔ انہوں نے کہا کہ شام پر اسرائیلی حملے فوراً رکنے چاہیں۔
شامی صدر بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد اسرائیل نےشام پر سینکڑوں فضائی حملے کیے ہیں ، جن کا مقصد مبینہ طور پر اسلحہ اور فوجی ڈھانچے کو تباہ کرنا ہے ۔ سیکرٹری جنرل گوتریس نے کہا کہ شام کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو مکمل طور پر بحال کیا جانا چاہیے ۔اسرائیلی فوج نے شام اور اسرائیلی مقبوضہ گولان کی پہاڑیوں کے درمیان غیر فوجی علاقے میں بھی پیش قدمی کی ہے، جو 1973 کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد اقوام متحدہ کے امن فوجیوں کی نگرانی میں قائم کیا گیا تھا۔
اسرائیلی حکام نے اسے عارضی اقدام قرار دیا ہے جس کا مقصد ملک کی سرحدوں کی حفاظت یقینی بنانا ہے لیکن یہ واضح نہیں کیا کہ فوج کب واپس جائے گی۔گوتریس نے کہا کہ علاقے میں اقوام متحدہ کے امن فوجیوں کے علاوہ کسی فوجی طاقت کی موجودگی نہیں ہونی چاہیے ۔

یہ بھی پڑھیں:اسرائیلی وزیر دفاع کا حوثیوں کے لیے سخت انتباہ "ہر حملے کا بدلہ سات گنا لیا جائے گا”
اسرائیل اور شام کو 1974 کے معاہدہ برائے فوجی عدم تصادم کی شرائط پر عمل کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ شام میں جامع، قابل اعتبار اور پرامن سیاسی تبدیلی کی سہولت فراہم کرنے اور انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے امداد کی فراہمی پر توجہ مرکوز کر رہا ہے۔
گوتریس نے میکسیکو کے وکیل کارلا کوئنٹانا کو شام میں گمشدہ افراد کے بارے میں آزاد ادارے کی سربراہی کے لیے مقرر کرنے کا اعلان کیا۔ اس ادارے کو 2023 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے قائم کیا تھا تاکہ گمشدہ افراد کے حالات کا پتہ لگایا جا سکے ۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے