جنوبی کوریا میں مارشل لا کے اعلان پر شدید احتجاج، صدر یون کے استعفے کا مطالبہ
جنوبی کوریا میں صدر یون کے اچانک مارشل لا کے اعلان کے بعد ہزاروں افراد نے مظاہرہ کیا ۔ موم بتیاں ہاتھوں میں اٹھائے مظاہرین نے صدار کے دفتر کی جانب مارچ کیا۔
جنوبی کوریا کے صدر نے ملک میں مارشل لا کا اعلان کیا تھا ، فیصلہ چند گھنٹوں کے بعد واپس لے لیا گیا ۔ لیکن عوام صدر کے اس فیصلے پر اب بھی غصے میں ہیں ۔ مظاہرے کا اہتمام کورین کنفیڈریشن آف ٹریڈ یونینز نے کیا تھا، جس کے مطابق تقریباً 10,000 افراد اس احتجاج میں شریک ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکی صدر جوبائیڈن افریقی سربراہی اجلاس کے دوران سوتے رہے
مارشل لا کا اعلان منگل کی رات اچانک کیا گیا جس نے پارلیمنٹ اور فوج کے درمیان شدید تصادم کی صورتحال پیدا کر دی۔ پارلیمنٹ نے ووٹنگ کے ذریعے صدر کی سیاسی سرگرمیوں پر پابندی اور میڈیا کی سنسرشپ کی کوشش کو مسترد کر دیا ۔ صدر کے اعلان کے بعد مسلح فوجی سیئول میں قومی اسمبلی کی عمارت میں زبردستی داخل ہو گئے تھے ۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں