روس نے برطانوی سفارتکار کو جاسوسی کے الزام میں ملک بدر کر دیا
روس نے ماسکو میں تعینات ایک برطانوی سفارتکار کو جاسوسی کے الزامات کے تحت ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔ روسی وزارت خارجہ نے برطانیہ کے 30 سیاسی، عسکری، اور ٹیکنالوجی شعبے سے وابستہ افراد اور برطانوی صحافتی حلقے کے ارکان پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔
روسی فیڈرل سیکیورٹی سروس کے مطابق برطانوی سفارتخانے میں دوسرے سیکریٹری کے طور پر تعیناتایڈورڈ پرائر ولکس کو روسی قوانین کی خلاف ورزی اور جھوٹی معلومات فراہم کرنے کے الزام میں دو ہفتوں کے اندر ملک چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:اسرائیل کےبیروت پرحملے: جنگ بندی کی کوششوں کو دھچکہ
ایف ایس بی نے مزید دعویٰ کیا کہ سفارتکار کی سرگرمیاں روس کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ پیدا کر رہی تھیں، روسی وزارت خارجہ نے برطانوی سفیر نائجل کیسی کو طلب کر کے اس معاملے پر احتجاج کیا اور کہا کہ ولکس کا تعلق برطانوی خفیہ ایجنسیوں سے ہے اور وہ روسی سرزمین پر تخریبی سرگرمیوں میں ملوث تھے۔ ولکس کی سفارتی حیثیت ویانا کنونشن 1961 کے آرٹیکل 9 کے تحت منسوخ کر دی گئی ہے، اور برطانوی حکومت کو اس فیصلے سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں