انجیلا مرکل کی یادداشتوں پر مشتمل کتاب فروخت کیلیے پیش
سابق جرمن چانسلر انجیلا مرکل نے اپنے 16 سالہ دور حکومت کے دوران عالمی رہنماؤں بشمول روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ تعلقات اور اہم فیصلوں کی تفصیلات کتاب میں بیان کی ہیں۔
فریڈم: میموریز 1954-2021 کے عنوان سے یہ کتاب بیک وقت 30 ممالک میں فروخت کیلیے پیش کی گئی ۔ مرکل آئندہ ہفتے واشنگٹن میں سابق امریکی صدر براک اوباما کے ساتھ اس کتاب کا امریکا میں اجرا کریں گی۔
کتاب کے اشاعت سے پہلے جاری کردہ اقتباسات میں مرکل نے 2008 کے نیٹو سربراہی اجلاس میں یوکرین کی رکنیت کے معاملے پر اپنی مخالفت کا دفاع کیا ۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے نے روس کو یوکرین پر حملے سے باز رکھنے میں ناکامی کا اشارہ دیا۔
یہ بھی پڑھیں:اسرائیل کےبیروت پرحملے: جنگ بندی کی کوششوں کو دھچکہ
انجیلا مرکل کے چار مسلسل ادوارِ حکومت کے دوران انہوں نے جرمنی اور یورپ کو عالمی مالیاتی بحران ، یورو زون کے قرض بحران اور کووڈ-19 وبا جیسے چیلنجز سے نکالا۔
تاہم، مرکل پر اب یہ تنقید کی جا رہی ہے کہ ان کے دور میں جرمنی روسی گیس اور چینی تجارت پر زیادہ انحصار کرنے لگا۔ ناقدین یہ بھی کہتے ہیں کہ جرمنی میں دائیں بازو کے انتہا پسندوں کا عروج اور توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، مہاجرین کے لیے سرحدیں کھولنے اور جوہری توانائی کو مرحلہ وار ختم کرنے جیسے ان کے فیصلوں کا نتیجہ ہیں۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں