اسرائیل کےبیروت پرحملے: جنگ بندی کی کوششوں کو دھچکہ

اسرائیلی کے بیروت پر فضائی حملے جاری ہیں ۔ تازہ حملوں میں تین افراد دم توڑ گئے ۔ لبنان سے بھی اسرائیل علاقوں پر راکٹ حملے کیے گئے ، میڈیا رپورٹس کے مطابق لبنان سے اسرائیل کے علاقے کریات شمونہ کے علاقے پر راکٹ داغے گئے جس سے مکان کو نقصان پہنچا۔ اسرائیل اور لبنان میں ممکنہ جنگ بندی کے معاہدے کی اطلاعات بھی سامنے آ رہی تھیں ۔
لبنانی وزارت صحت کے مطابق ، وسطی بیروت اسرائیلی حملے میں کم از کم تین افراد جاں بحق اور 16 زخمی ہوئے۔ لبنانی خبر رساں ادارے این این اے کے مطابق اسرائیلی جنگی طیاروں نے جنوبی بیروت کے علاقوں برج البراجنہ، الرمل الاعلیٰ، اور تحویت الغدیر پر بھی حملے کیے۔ ان حملوں کے بعد علاقے سے دھوئیں کے بادل اٹھتے دیکھے گئے۔

یہ بھی پڑھیں:سویڈن کا اسرائیلی وزیراعظم کے وارنٹ گرفتاری کی حمایت کا اعلان
جنوبی لبنان کے دیگر علاقوں جیسے ہوش صور، جدیدت مرجعیون، اور طیر حرفا کو بھی شدید فضائی اور گولہ باری کا نشانہ بنایا ۔ اسرائیلی فوج نے بیروت کے جنوبی مضافات میں 20 عمارتوں کو خالی کرنے کا حکم دیا تھا اور حملوں سے قبل ہدف بنائے جانے والے مقامات کے نقشے بھی جاری کیے۔
اسرائیلی دفاعی وزیر اسرائیل کاٹز نے خبردار کیا کہ لبنان میں اسلحے کی اسمگلنگ کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی خطرے یا حملے کا فوری جواب دیا جائے گا ۔ حزب اللہ نے ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ جنوبی لبنان میں ایک اسرائیلی میرکاوا ٹینک کو راکٹ حملے میں نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں اسرائیلی فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے۔
یہ کشیدگی ایک ایسے وقت میں شدت اختیار کر رہی ہے جب اسرائیل کی سیکیورٹی کابینہ امریکی حمایت یافتہ جنگ بندی کی تجویز پر غور کے لیے اجلاس منعقد کرنے والی ہے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق اگلے دو دنوں میں جنگ بندی کا معاہدہ متوقع ہے۔
لبنانی رکن پارلیمنٹ قاسم ہاشم نے بھی بتایا کہ جنگ بندی کی بات چیت مثبت انداز میں آگے بڑھ رہی ہے اور اگر مذاکرات جاری رہے تو 36 گھنٹوں کے اندر معاہدہ طے پا سکتا ہے۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے