اسرائیلی فوج کےلبنان میں وائٹ فاسفورس ہتھیاروں کے استعمال کا انکشاف

اقوام متحدہ کے انڈر سیکریٹری جنرل برائے امن آپریشنز جین پیئر لاکروئے نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں وائٹ فاسفورس ہتھیاروں کا استعمال کیا ہے۔

 

اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اقوام متحدہ کی عبوری فورس برائے لبنان (UNIFIL) نے اس معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔وائٹ فاسفورس ہتھیار ایک قسم کے آتش گیر ہتھیار ہیں جو جلنے کے دوران انتہائی بلند درجہ حرارت اور زہریلا دھواں پیدا کرتے ہیں۔

 

یہ ہتھیار بین الاقوامی قوانین کے تحت سخت ضوابط کے پابند ہیں۔ 1980 میں اقوام متحدہ نے ایسے روایتی ہتھیاروں کے استعمال پر پابندی عائد کر دی تھی ۔

 

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وائٹ فاسفورس ہتھیار صرف روشنی پیدا کرنے یا دھوئیں کی آڑ فراہم کرنے کے لیے استعمال کیے گئے ہیں اور اس لیے وہ اس پابندی کے دائرے میں نہیں آتے۔

 

مزید پڑھیے : ٹرمپ نے ڈبلیو ڈبلیو ای کی سابق سی ای او کو محکمہ تعلیم کا سربراہ نامزد کر دیا

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے