یوکرین امریکی ہتھیار روس پر حملوں میں استعمال کرے گا ، امریکا نے اجازت دے دی

امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے یوکرین کو امریکی فراہم کردہ ہتھیاروں سے روسی سرزمین پر حملے کرنے پر عائد پابندی ختم کر دی ہے ۔ اس اقدام کو یوکرین-روس تنازعے میں امریکی پالیسی میں اہم تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق، یوکرین آنے والے دنوں میں پہلی بار طویل فاصلے تک حملے کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، تاہم آپریشنل تحفظ کے پیش نظر مزید تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں ۔ وائٹ ہاؤس نے اس معاملے پر کوئی تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔
یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا ہے جب روس نے شمالی کوریا کے زمینی فوجیوں کو اپنے دستوں کے ساتھ تعینات کیا ہے، جس سے واشنگٹن اور کیئو میں تشویش پیدا ہوئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یوکرین اپنے پہلے طویل فاصلے کے حملوں میں ATACMS راکٹ استعمال کر سکتا ہے، جن کی حد 190 میل تک ہے ۔ اس فیصلے کا مقصد یوکرین کو اس وقت مدد فراہم کرنا ہے جب روسی افواج پیش قدمی کر رہی ہیں اور ممکنہ طور پر کیئو کو مذاکرات میں بہتر پوزیشن میں لانا ہے۔
امریکی کانگریس کے کچھ ریپبلکن ارکان نے بائیڈن پر زور دیا تھا کہ وہ یوکرین کو امریکی ہتھیاروں کے استعمال کے قوانین میں نرمی فراہم کریں۔
جنوری میں صدر کا عہدہ سنبھالنے والے ڈونلڈ ٹرمپ، بائیڈن کے اس فیصلے کو واپس کریں گے یا نہیں اس کا فیصلہ ٹرمپ کریں گے ۔ نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین کو دی جانے والی امریکی مالی اور فوجی امداد پر متعدد بار تنقید کی اور جنگ کو جلد ختم کرنے کا عزم ظاہر کیا ۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے